Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک ہفتہ بہار میں

Urdu book, p. 271

By Maulana Wahiduddin Khan

کا ایک پروڈکٹ ہوں۔ اور اگر آپ لوگ مجھ کو ایک امن پسند انسان سمجھتے ہیں تو اسی سے سمجھ لیجیے کہ ہر مدرسہ امن پسندی کی تربیت گاہ ہے۔ آج جب میں نے جامعہ کے کیمپس میں قدم رکھا تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ پڑے۔ یہ آنسو اس درد کے تحت نکلے تھے کہ ہمارا ملک کتنی بڑی حقیقت سے بے خبر ہے۔ جامعہ ابن تیمیہ میں مجھے ہر طرف امن اور انسانی خیر خواہی اور علم دوستی کا ماحول نظر آیا۔ ایسا ادارہ بلاشبہ ملک کے لیے ایک سرمایے کی حیثیت رکھتا ہے، مگر کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اس قسم کے تعمیری اداروں پر بے بنیاد طور پر تخریب کا الزام لگائیں۔ تاہم یہاں آنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مدارس کے بارے میں جس غلط پروپیگنڈے کی تردید میں دیکھے بغیر قیاس کی بنیاد پر کر رہا تھا اب میں خدا کے فضل سے اس کی تردید مشاہدہ کی بنیاد پر کر سکتا ہوں۔ جامعہ میں خواتین کا ایک مدرسہ بھی ہے اس کو بھی دیکھا۔ اس کا ایک الگ اور مستقل کیمپس ہے۔ اس میں دارالاقامہ سے لے کر مسجد تک ہر چیز موجود ہے۔ پچھلے سالوں میں ہندوستان کے مسلمانوں میں خصوصی طور پر یہ رجحان پیدا ہوا ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو پڑھائیں۔ چنانچہ بہت سے مدرسے اور اسکول خواتین کی تعلیم کے لیے قائم ہوئے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک روشن علامت ہے۔ جامعہ الامام ابن تیمیہ چندن بارہ پندرہ یکڑ کے رقبہ میں واقع ہے۔ اس کے مختلف شعبوں کو دیکھنے کے لیے مجھے کار سے چلنا پڑا۔ اس کے وسیع کیمپس میں چلتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے یہاں زمین کے اوپر ایک اسلامک یونیورسٹی ابھر رہی ہو۔ دل سے دعا نکلی کہ اللہ اس ادارہ کو وہ ادارہ بنائے جو اسلام کی جدید ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہو۔ میں نے یہاں کے اساتذہ کی ایک مجلس میں کہا کہ دعوتی نقطۂ نظر سے موجودہ زمانے کا سب سے بڑا کام اسلام کو جدید ذہن کے لیے قابل فہم بنانا ہے۔ دعوت کا کام ایک دو طرفہ عمل ہے۔ اس میں ایک طرف داعی ہوتا ہے اور دوسری طرف مدعو۔ دعوت کے عمل کو درست طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page