Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک ہفتہ بہار میں

Urdu book, p. 272

By Maulana Wahiduddin Khan

انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ داعی اپنے مدعو کے ذہن کو سمجھے۔ اس کی زبان اور اس کا اسلوب کلام ایسا ہو جو اس کے مدعو کے لیے قابل فہم ہو جو مدعو کو سوچنے پر مجبور کردے۔ مولانا ذکاء اللہ عبد القدوس صاحب نے کہا کہ قرآن میں واضح طور پر یہ آیت ہے کہ: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ (24:55)۔ یعنی، اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں اقتدار دے گا۔ موجودہ حالات کی روشنی میں اس آیت کی تفسیر کیا ہے۔ میں نے کہا کہ استخلاف بلاشبہ اللہ کا ایک وعدہ ہے، مگر خود آیت بتاتی ہے کہ یہ ایک مشروط وعدہ ہے۔ یعنی جب شرط پوری ہوگی اسی وقت وعدہ کی تکمیل ہوگی۔ آیت کے مطابق یہ شرطیں بنیادی طور پر دو ہیں۔ ایمان اور عمل صالح۔ ایمان اور عمل صالح کے بغیر خلافت کے وعدہ کی تکمیل ممکن نہیں۔ اس آیت کے مطابق امت میں اگر ایمان اور عمل صالح موجود ہو تو لازماً اس کو خلافت حاصل ہوگی۔ اسی طرح اس کے برعکس، اگر خلافت موجود نہ ہو تو یہ اس کا لازمی ثبوت ہوگا کہ امت کے اندر مطلوب ایمان اور مطلوب عمل صالح موجود نہیں۔ یہ ایک لازم و ملزوم معاملہ ہے۔ اس لیے اگر ایک چیز موجود ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ دوسری چیز موجود نہیں ہے۔ 11 بجے جامعہ الامام ابن تیمیہ کے ہال میں طلبہ واساتذہ کو خطاب کیا۔ وسیع ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ قرب وجوار کے لوگ بھی کافی تعداد میں شریک تھے۔ میں نے اپنی تقرير میں دو چیزوں کی اہمیت بتائی۔ ایک علم اور دوسری دعا۔ علم کے ذریعہ آدمی صاحب شعور بنتا ہے اور دعا کے ذریعہ وہ اس برتر طاقت کی نصرت حاصل کرتا ہے جو اس کو ہر جگہ کامیاب کرنے والی ہے۔ میں نے کہا کہ امام ابن تیمیہ سے میں نے ذاتی طور پر یہ دونوں چیزیں سیکھی ہیں۔ ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب قرآن کی کسی آیت کے سلسلے میں ان کو اشکال پیش آتا تو وہ تنہائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page