ایک ہفتہ بہار میں
Urdu book, p. 273
By Maulana Wahiduddin Khan
میں چلے جاتے اور وضو کر کے دورکعت نماز پڑھتے اور سجدہ میں سر رکھ کر کہتے: يَا مُعَلِّمَ إِبْرَاهِيمَ عَلِّمْنِي (اعلام الموقعین، جلد 4، صفحہ 198)۔ یعنی، اے ابراہیم کے معلم، مجھے بھی علم دے دے۔ یہ دعا کوئی سادہ دعا نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کا قاری (مطالعہ کرنے والا) اس کے مصنف سے ہر لمحہ کنسلط (consult) کر سکتا ہے، خواہ یہ قاری کسی بھی مقام پر اور کسی بھی زمانے میں ہو۔ یہ ایک ایسی خوش قسمتی ہے جو قرآن کے قاری کے سوا کسی اور کتاب کے قاری کو حاصل نہیں۔ میں نے اللہ کے فضل سے ابن تیمیہ کے اس طریقہ کو اپنا مستقل طریقہ بنا لیا۔ اس سے مجھے غیر معمولی فائدے حاصل ہوئے۔ پھر میں نے کہا کہ ابن تیمیہ کی ایک اور خصوصیت یہ تھی کہ وہ ہر قسم کی چیزیں کثرت سے پڑھتے تھے۔ چنانچہ ان کی کتابیں معلومات کا خزانہ بن گئیں۔ میں نے اپنی زندگی میں اللہ کی توفیق سے ایسا ہی کیا۔ میں نے اپنی تقریباً پوری زندگی مختلف قسم کے علوم کے مطالعہ میں گزار دی۔ یہ مطالعہ میرے لیے بے حد مفید ثابت ہوا۔ اگر آپ کا مطالعہ محدود ہو تو آپ مسائل کی پوری نوعیت کو نہیں سمجھ سکتے اور نہ اس کا گہرا تجزیہ کر سکتے ہیں۔ اس لیے آپ کو چاہیے کہ مطالعہ کو زیادہ سے زیادہ بڑھائیں نیز یہ کہ ہر قسم کی چیزیں پڑھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کے بغیر انسان کی شخصیت ادھوری رہتی ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ جس تحمل اور ایڈجسٹمنٹ کی تلقین کرتے ہیں وہ ہر آدمی اپنی ذاتی زندگی میں اپنائے ہوئے ہے۔ مگر جب آپ اس طریقہ عمل کو ملی زندگی میں اختیار کرنے کے لیے کہتے ہیں تو یہی لوگ آپ کی مخالفت کرنے لگتے ہیں۔ جس حکمت کو وہ اپنی ذاتی زندگی میں جانتے ہیں، کیا وجہ ہے کہ ملی زندگی کے معاملات میں وہ اس سے بے خبر ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ ذاتی معاملات میں وہ اپنی جبلت (instinct) کے تحت عمل کرتے ہیں۔ لیکن ملی زندگی میں معاملہ شعور کا ہو جاتا ہے جہاں ان کو اپنے شعور کے تحت بالقصد کام کرنا ہے۔ مگر مسلم سماج اور مسلم اداروں نے ان کے اندر یہ شعور زندہ نہیں کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader