Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک ہفتہ بہار میں

Urdu book, p. 279

By Maulana Wahiduddin Khan

فجر کی نماز درگاہ محلہ کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کے بعد لوگوں نے درس کے لیے کہا۔ امام صاحب نے نماز میں یہ آیت پڑھی تھی: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (18: 59)۔ یعنی، اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ہے۔ اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ باخبر ہے اس سے جو تم کرتے ہو۔ میں نے اس آیت کو لے ایک تربیتی تقریر کی۔ میں نے کہا کہ اللہ نے اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ انسان یہ دیکھے کہ وہ کل کے لیے کیا بھیج رہا ہے۔ لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ مسجد میں تو اس آیت کو سنتے ہیں لیکن باہر جا کر برعکس طور پر اس فکر میں لگ جاتے ہیں کہ اپنے آج کے لیے میں کیا کماؤں۔ یعنی ساری فکر اس بات کی ہو جاتی ہے کہ آج میں کیا حاصل کروں۔ میں نے کہا کہ لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر اس سے اپنے لیے ہدایت نہیں لیتے۔ وہ مسجد والے اعمال تو کرتے ہیں مگر وہ مسجد والے اسباق نہیں لیتے ۔ میں نے کہا کہ یاد رکھیے اصل اہمیت مسجد والے اعمال کی نہیں بلکہ مسجد والے اسباق کی ہے۔ 4 نومبر کی صبح کو مدرسہ اسلامیہ بتیا کا معائنہ کیا۔ اس مدرسہ کی بنیاد 1894 میں رکھی گئی۔ یہ ایک تاریخی مدرسہ ہے۔ اس مدرسہ کے ذمہ دار پروفیسر ناظم صاحب ہیں۔ یہاں دارالافتاء و دارالقضاء بھی قائم ہے۔ یہاں طلبہ و اساتذہ کے سامنے ایک مختصر تقریر کی۔ میں نے کہا کہ پچھلے دوسوسال کے درمیان مسلمانوں نے بہت سے کام شروع کیے ۔ مگر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ ختم ہوتے رہے۔ لیکن مدرسہ کا کام غالباً واحد کام ہے جو قابل بقا (sustainable) ثابت ہوا۔ ایک حدیث ہے کہ: أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ أَدْوَمُهَا (صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر 1277)۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مداومت میں کوئی پر اسرار صفت ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے جو کام شروع کرنے کے بعد مسلسل کیا جاتا رہا ہے۔ اس کے ساتھ تائیدی عوامل شامل ہوتے رہے ہیں جو اس کو تقویت دے کر آگے بڑھاتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچادیتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page