ایک ہفتہ بہار میں
Urdu book, p. 280
By Maulana Wahiduddin Khan
4 نومبر کی دوپہر کو ہم لوگ مدرسہ جامعہ اسلامیہ قرآنیہ (سمرا) گئے۔ اس مدرسہ کا قیام 1818ء میں ہوا۔ اس کے بانی مولانا احسان اللہ ومولانا جعفر علی صاحب ہیں۔ یہ مدرسہ پہلے پوڑی گنڈگ ندی کے کنارے پر واقع تھا۔ وہاں وہ سیلاب کے دوران 1962 میں دریائی کٹاؤ کی نذر ہو گیا۔ اس وقت کا مدرسہ موجودہ مدرسہ سے چھوٹا تھا۔ لیکن پھر دو سال بعد 1964 میں زیادہ بڑے اور وسیع مدرسہ کی صورت میں قائم ہو گیا۔ یہ واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ دنیا میں ناکامی کوئی چیز نہیں۔ عین ممکن ہے، پہلی بار نا کام ہونے کے بعد آدمی دوسری بار پہلے سے بھی زیادہ بڑی کامیابی حاصل کرلے۔ اس مدرسہ میں طلبہ واساتذہ کا ایک جلسہ ہوا جس میں میں نے مختصر خطاب کیا۔ جلسہ کو شروع کرتے ہوئے عزیز الرحمن صاحب نے یہ شعر پڑھا: فکر عقبی نہ خوف خدا ہے کیسا نادان وہ آدمی ہے کام کرتا ہے دوزخ کا لیکن سوچتا ہے کہ جنت ملے گی 4 نومبر کو ساڑھے بارہ بجے مدرسہ جامعہ اسلامیہ (سمرا) سے ہم لوگ دوبارہ بتیا کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ دنیا میں کام کرنے کے لیے صرف اخلاص کافی نہیں، اسی کے ساتھ لازمی طور پر ڈسپلن بھی ضروری ہے۔ کوئی آدمی بالفرض اخلاص کا پہاڑ ہو لیکن اگر اس کے اندر ڈسپلن نہ ہو تو وہ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ اخلاص اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی آخرت کی ناکامی سے محفوظ رہے۔ مگر موجودہ دنیا اسباب کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہاں اپنے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے ڈسپلن ضروری ہے۔ ڈسپلن سے مراد منظم عمل ہے، اور منظم عمل کسی بھی بڑے کام کے لیے لازمی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔ 4 نومبر کی رات کو نماز عشاء کے بعد مدرسہ تعلیم القرآن سپیا دیوراج کے وسیع میدان میں عمومی جلسہ ہوا۔ اس جلسہ میں مدرسہ کے طلباء اور اساتذہ کے علاوہ بڑی تعداد میں اطراف کے لوگ شریک ہوئے۔ یہاں میری تقریر کا موضوع دعوت تھا۔ میں نے اپنی تقریر میں چند باتیں کہیں ۔ ایک یہ کہ دعوت دوسرے کے درد کو اپنے سینہ میں محسوس کرنے کا نام ہے ۔ دردمند دل ہی دعوت کا کام کر سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader