Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک ہفتہ بہار میں

Urdu book, p. 281

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری بات یہ کہ دعوت کا نقطہ آغاز یہ ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان معتدل فضا ہو، تعصب ونفرت کا ماحول نہ ہو۔ اس قسم کے ماحول کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مدعو جو بات سنتا ہے اس پر وہ ٹھنڈے دل سے سوچتا ہے۔ کوئی منفی احساس اس کی سوچ کے عمل میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں ہمیں دو قسم کے کام کرنے ہیں، ایک طرف مسلمانوں کی اصلاح اور دوسری طرف غیر مسلموں میں دین کی اشاعت ۔ یہ دونوں ہی کام یکساں طور پر اہم ہیں۔ ضرورت ہے کہ تقسیم کار کے اصول پر دونوں کام کو مؤثر انداز میں انجام دیا جائے۔ 5 نومبر کی صبح کو مدرسہ تعلیم القرآن کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی گئی۔ پوری مسجد بھری ہوئی تھی ۔ پروگرام میں شرکت کے لیے باہر کے لوگ بھی آئے تھے۔ مثلاً فجر کی نماز کے بعد حافظ ممتاز عالم سے ملاقات ہوئی انہوں نے کہا کہ میں کھیڑ ٹیا کا رہنے والا ہوں۔ بیس کلومیٹر سفر کرکے صرف آپ کی بات سننے آیا ہوں۔ نماز فجر کے بعد مجھ سے درس کے لیے کہا گیا۔ تقریباً آدھ گھنٹہ تک میں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں تذکیری انداز کا خطاب کیا۔ ایک آیت اور ایک حدیث بیان کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اسلام نہ تو کوئی پراسرار دین ہے اور نہ کوئی رسمی اور نسلی دین۔ اسلام اللہ کی ایک نعمت ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لیے کھولی ہے۔ حقیقی معنوں میں مومن وہ ہے جو اسلام کو ایک ایسی عظیم نعمت کے طور پر پائے جس سے اس کی روح سرشار ہو گئی۔ جناب مولانا محمد بدرالحق قاسمی (45 سال) صدر مدرس تعلیم القرآن سے سبیا میں ملاقات ہوئی۔ انہوں نے الرسالہ کے سلسلے میں اپنے تاثرات کا اظہار ان الفاظ میں کیا ’’الرسالہ پڑھ کر مجھے ایک شعوری زندگی گزارنے کا احساس ہوا۔ اس لیے کہ شعور ہی کے ذریعہ انسان اپنے کمال تک پہنچتا ہے۔ 5 نومبر کی صبح کو مدرسہ تعلیم القرآن سبیا ، دیوراج کو دیکھا۔ یہاں مدرسہ کے طلبا اور اساتذہ پر مشتمل ایک اجتماع ہوا۔ بچے زیادہ تر چھوٹی عمر کے تھے۔ جب میں نے ان چھوٹے بچوں کو دیکھا تو مجھے ستر سال پہلے 1930 کا اپنا زمانہ یاد آیا۔ اس وقت میں اسی طرح ایک بچے کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page