ایک ہفتہ بہار میں
Urdu book, p. 282
By Maulana Wahiduddin Khan
صورت میں اپنے گاؤں کے مدرسہ میں پڑھتا تھا۔ میں نے سوچا کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر ان کی تعلیم کے لیے مدرسہ چلانا کتنا بڑا کام ہے۔ اگر چہ وہ بظاہر بہت چھوٹا کام نظر آتا ہے۔ ان چھوٹے بچوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ یہ ان کے بڑے ہیں جن کو ان کے مستقبل کے بارے میں سوچنا اور فیصلہ کرنا ہے۔ بچوں کا بے خبری کی عمر میں ہونا باخبر ی کی عمر والے بڑوں کی ذمہ داری میں بے پناہ اضافہ کر دیتا ہے۔ یہ بچے خود اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ نہیں سکتے۔ یہ ان کے بڑوں کے لیے دوہر اکام ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں بھی سوچیں اور بچوں کے مستقبل کے بارے میں بھی۔ مدرسہ کا پروگرام شروع ہوا تو پہلے قرآن کی تلاوت کی گئی۔ ایک طالب علم نے قرآن کا ایک رکوع پڑھا۔ مدرسہ تعلیم القرآن میں تقریر کے بعد ایک صاحب کھڑے ہوئے۔ وہ انگریزی اخبار میں شائع شدہ ایک مضمون لیے ہوئے تھے جس میں کسی انتہا پسند ہندو نے لکھا تھا کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں سیکنڈ کلاس سٹیزن بن کر رہنا ہوگا ورنہ ان کی حالت اس ملک میں درست نہیں ہوسکتی۔ 5 نومبر کی رات کو جامعہ ہارونیہ یتیم خانہ (بگہا) میں ایک تقریر ہوئی۔ اس تقریر میں میں نے اسلام کی اخلاقی اور سماجی تعلیمات بیان کیں اور بتایا کہ اسلام امن اور محبت اور خیر خواہی کا مذہب ہے۔ وہ نفرت و تشد د کا مذہب نہیں۔ مولاناحفظ الرحمن صاحب خانقاہ خیر آباد (بگہا) مدرسہ شمس العلوم کے پرنسپل ہیں۔ خانقاہ خیر آباد کے نائب سجادہ نشین مولانا فضل الرحمن ہارونی ہیں۔ مولانا حفظ الرحمن صاحب نے کہا کہ میرے والد مولانا ہارون نقشبندی کہا کرتے تھے کہ جو شخص اپنا کام کسی کی برائی سے شروع کرتا ہے تو اس میں شر چھپا ہوا ہوتا ہے اور جو شخص اپنا کام کسی کی خیر سے شروع کرتا ہے تو اس میں خیر کا پہلو ہوتا ہے۔ مزید وہ فرماتے تھے کہ تم اپنے آپ کو ایک پھلدار درخت کی طرح بناؤ۔ جب کوئی اس پر پتھر پھینکتا ہے تو چوٹ کھا کر کے بھی وہ اس کو پھل دیتا ہے۔ تم اگر کسی کو ایک پھل نہ دے سکوتو اس کو دعا ہی دے دو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader