ایک ہفتہ بہار میں
Urdu book, p. 283
By Maulana Wahiduddin Khan
خانقاہ ہارونیہ خیر آباد کے آس پاس ہر مذہب کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں عیسائی بھی ہیں، ہندو بھی اور مسلمان بھی۔ مگر سب کے سب امن ومحبت کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس علاقے میں زیادہ تر ہندو لوگ ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے مگر اس علاقے کی اخلاقی قیادت مولانا حافظ الرحمن ہارونی کو حاصل ہے۔ مولانامحمد ثناء اللہ ندوی جو پورے سفر میں میرے ساتھ رہے ان سے میں نے پوچھا کہ پہلے آپ نے صرف تحریروں کو پڑھا تھا، اب آپ نے میرے روز وشب کو دیکھا اور براہِ راست طور پر میری زبان سے میری باتوں کو سننے، پڑھنے اور دیکھنے میں آپ نے کیا فرق پایا۔ انہوں نے جو تاثر بیان کیا اس کے الفاظ یہ تھے_”میں نے آپ کی بہت سی کتابیں پڑھی ہیں۔ ان کتابوں میں جو پیغام ہے، انسانیت کی فلاح کے لیے جو درد جھلکتا ہے، اپنے وطن اور اہل وطن کے لیے جو محبت ہے، آپس میں اتحاد واتفاق کا جو سندیش ہے، ان تمام چیزوں کا مکمل عملی نمونہ میں نے آپ میں پایا۔ اخلاق وعمدہ برتاؤ کا حقیقی روپ آپ کے اندر دیکھنے کو ملا۔ اخلاص کو انتہائی حد تک موجود پایا۔ وقت کی پابندی، اپنے ہم سفر ساتھیوں کی سہولت کا خیال، ہر ایک کے لیے خیر خواہی کا جذبہ، مخلوقات خدا سے بے حد محبت، مناظر فطرت کے شیدائی، علم دوست، انسانیت کے خیر خواہ، احکامات خداوندی کے بہت پابند، سنتِ رسول پر زندگی گزارنے والا، صبر وشکر کا حقیقی پیکر، انسانوں میں گھل مل کر رہنا، ہر آدمی سے قریب ہو نے اور ہر ایک کو قریب رکھنے کی خصلت، قول وعمل میں مکمل مطابقت رکھنے والا پایا۔ الغرض ظاہر و باطن میں قول وعمل میں پورے سفر کے اندر زندگی کے کسی گوشے میں فرق اور تضاد نہیں پایا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک مومن کی جو صفات ہیں ان کو آپ کے اندر بدرجہ اتم دیکھا۔“ مولانا عبدالرحیم امدادی (46 سال) عجیب وغریب شخصیت کے آدمی ہیں۔ مادیات سے بے پرواہ، بے غرضی کی زندہ تصویر، اپنے حلیہ کے اعتبار سے قلندر، اپنے مزاج کی بنا پر میں اکثر ان کو سخت وسست کہہ دیتا تھا مگر وہ ہمیشہ مخلصانہ مسکراہٹ کے ساتھ اس کا جواب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader