Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک ہفتہ بہار میں

Urdu book, p. 284

By Maulana Wahiduddin Khan

دیتے تھے۔ ایک مجلس میں ان کے بارے میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے میں نے کہا کہ میرے تجربے کے مطابق وہ اس حدیث کی ایک زندہ تصویر ہیں۔ جس میں رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا: رُبَّ أَشْعَثَ، مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2622 )۔ یعنی، بہت سے بکھرے بال والے، گرد آلود اور جسے لوگ دروازوں سے لوٹا دیتے ہیں، اگر وہ اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو پوری کرے گا۔ 6 نومبر کو ہم لوگ بگہا سے نر کٹیا گنج جا رہے تھے۔ پورا سفر سر سبز درختوں کے ماحول میں گزر رہا تھا۔ لیکن سڑک اتنی زیادہ خراب تھی کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہم کار پر سفر نہیں کر رہے ہیں بلکہ ٹریکٹر پر سفر کر رہے ہیں۔ خراب سڑک اچھی کار کو ٹرکٹر یکٹر جیسا بنا دیتی ہے۔ یہ دنیا کا نظام ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ حضرت، میرے لیے دعا کر دیجیے۔ میں ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں ۔ اس کتاب کا نام ہوگا : امت مسلمہ نے قائدین کو کیا دیا ۔ میں نے کہا کہ یہ تو ادھوری کتاب ہے۔ آپ کو یہ بھی لکھنا چاہیے کہ قائدین نے امت مسلمہ کو کیا دیا۔ پھر میں نے کہا کہ میرے مطالعہ کے مطابق قائدین نے امت مسلمہ کو بے شعوری دی، اور امت مسلمہ نے قائدین کو بھیٹ لوٹائی۔ میں نے جب یہ بات کہی تو مولانا عبدالرحیم امدادی نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ حضرت آپ نے خود ہی دینی مدارس الرسالة ستمبر 2000 میں کہا کہ علما ہند نے مدارس کی صورت میں بہت بڑا کام کیا ہے، پھر کیا آپ کی ان دونوں باتوں میں تضاد نہیں۔ میں نے کہا کہ میں نے اس وقت جو بات کہی اس کا تعلق سیاسی قائدین سے ہے۔ مدارس کا کام بلا شبہ ایک عظیم کام ہے۔ مگر وہ تمام تر غیر سیاسی علما نے انجام دیا ہے۔ مولانا حافظ محمد ممتاز عالم مفتاحی سے نرکٹیا گنج میں ملاقات ہوئی۔ وہ الرسالہ کے قاری ہیں۔ ان سے میں نے ان کا تاثر پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں اس کو اتنا مفید سمجھتا ہوں کہ میں چاہتا ہوں کہ سارے ہی لوگ اس رسالے کو پڑھیں ۔ انہوں نے بتایا کہ الرسالہ کا شمارہ 2000 " دینی مدارس “ کو پڑھ کر میں اتنا متاثر ہوا کہ میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے بھی ایک مدرسہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page