Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک ہفتہ بہار میں

Urdu book, p. 285

By Maulana Wahiduddin Khan

چلانا ہے۔ میرے اقتصادی حالات زیادہ اچھے نہیں ہیں پھر بھی میں نے اپنی جیب سے ایک رقم نکالی اور ایک مدرسہ ابتدائی طور پر شروع کر دیا۔ میرا یقین ہے کہ ان شاء اللہ یہ ایک کامیاب تعلیمی ادارہ بن کر رہے گا۔ میں جس گاؤں میں رہتا ہوں وہاں بہت کم پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ الرسالہ کو اتنا آگے بڑھاؤں کہ وہ پوری قوم کو تعلیم یافتہ بنانے کا ذریعہ بن جائے۔ ان کے گاؤں کا نام کھیر ٹیا پوریا (مغربی چمپارن) ہے۔ نر کٹیا گنج اور بتیا کے راستے میں ایک معاملہ پیش آیا۔ اس کے بعد میں نے مولانا عبد الرحیم امدادی سے کہا کہ آپ لوگ صرف ایک کام جانتے ہیں۔ کوئی عالم مل جائے تو اس کا سر اور پاؤں دبانا، اس کے لیے وضو کے لیے پانی رکھنا، جب وہ وضو کرے تو اس کے پیچھے تولیہ لے کر کھڑے رہنا، جب وہ بات کرے تو تسبیح لے کر اس کے دانہ پر انگلیاں پھیراتے رہنا، وہ اٹھے تو اس کا ہاتھ پکڑ لینا، جانے لگے تو جلدی سے اس کا جوتا سیدھا کرنا، اور یہ سب کر کے صرف یہ کہنا کہ حضرت میرے لیے دعا کیجیے اور پھر مطمئن ہو جانا کہ حضرت کی برکت سے دنیا و آخرت کے تمام معاملات درست ہو گئے۔ میں نے کہا کہ ہمارا مشن اس سے بالکل مختلف ہے۔ پوری امت ایک ایسے نقشہ کار کی عادی ہو گئی ہے جس میں سوچنے کے عمل کا کوئی خانہ ہی نہیں ہے یہ پورا عمل برکت کے تصور پر قائم ہے، نہ کہ شعور پر۔ ہمیں اس نقشہ کو بدلنا ہے، ہمارا مشن امت کو باشعور بنانا ہے، نہ کہ برکت کی پراسرار گولیاں تقسیم کرنا۔ قاری محمد ظفیر عالم صاحب (45 سال) بھی اس سفر میں ہم لوگوں کے ساتھ تھے وہ نیپال میں پورنیا کے قریب رہتے ہیں۔ یہاں مدرسہ حسینیہ ہے جو 1913 میں قائم کیا گیا۔ قاری محمد ظفیر عالم اس کے صدر مدرس ہیں۔ اس مدرسہ میں چار سو طلباء ہیں۔ اساتذہ کی تعداد دس ہے۔ اس مدرسہ کی اپنی عمارت ہے۔ اس کے احاطہ میں ایک باقاعدہ مسجد بھی ہے۔ یہ اس علاقہ کا سب سے بڑا مدرسہ ہے۔ اور اسی طرح ترائی کے علاقہ میں ایک اور بہت بڑا مدرسہ محمودیہ راجپور گٹو، نیپال ہے جو ندوۃ العلماء کی شاخ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page