علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 286
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انہوں نے اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا: الرسالہ میں دین اور دنیا کی حکمت بتائی جاتی ہے۔ الرسالہ کا پیغام یہ ہے کہ تھوڑا نقصان برداشت کر لو تا کہ تم زیادہ فائدہ حاصل کر سکو۔ انہوں نے کہا کہ خوش اخلاقی ایک طاقت ہے، آدمی کے اندر اگر خوش اخلاقی ہو تو وہ اس کے ذریعہ بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتا ہے۔ واپسی میں پٹنہ میں چند گھنٹہ قیام کے بعد ریلوے اسٹیشن کے لیے روانگی ہوئی۔ پٹنہ سے مجھے راجدھانی ایکسپریس کے ذریعہ دہلی آنا تھا۔ ٹرین ٹھیک وقت پر پٹنہ سے دہلی کے لیے روانہ ہوئی اور ٹھیک وقت پر پہنچ گئی۔ یہ پورا سفر رات میں طے ہوا۔ بیشتر وقت سوتے ہوئے گزرا۔ 7 نومبر کی صبح کو میں دہلی واپس آگیا۔ (الرسالہ، مارچ 2001) انتم گیت ٹیگور نے کہا تھا کہ ساری عمر باجے کے تاروں کو درست کرنے میں بیت گئی، اور میں انتم گیت نہ گا سکا۔ The song that I came to sing remains unsung to this day. (Gitanjali, Ch. 13) میرا انشا نہ انتم گیت نہ تھا بلکہ جنت تھا۔ میں کہوں گا کہ ساری عمر جنت کے شوق میں بیت گئی اور میں جنت کی اہلیت کا ثبوت نہ دے سکا۔ اب 75 سال کی عمر کو پہنچ کر میں اپنی عمر کے آخری مرحلہ میں ہوں۔ بہت جلد میں اپنے آپ کو اگلی دنیا میں پاؤں گا۔ اہلیت کی بنا پر تو میں جنت کا مستحق نہیں الا یہ کہ اللہ اپنی رحمت خاص سے مجھے جنت میں داخلہ دے دے۔ (ڈائری، 31 دسمبر 1996)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader