اتم گیت
Urdu book, p. 287
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک سفر (مدرسہ مصباح العلوم آسنصول، مدرسہ باب العلوم، کلکتہ) مئی 1985 کے چند دن مغربی بنگال میں گزرے۔ 2 مئی کی صبح کو میں آسنصول پہنچا۔ 4 مئی کی صبح کو کلکتہ گیا اور اسی دن شام کو دہلی واپس آیا۔ آسنصول مغربی بنگال کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شہر ہے۔ یہاں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 40 فی صد ہے۔ یہاں ان کے دو عربی مدرسے اور دو اسکول ہیں۔ کالج کے قیام کی کوشش ہو رہی ہے تعلیم میں پیچھے ہونے کے باوجود مسلمان عام طور پر خوش حال ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان تعلقات اچھے ہیں۔ یہاں وہ فرقہ وارانہ تعصب نہیں پایا جاتا جو یوپی جیسے علاقوں کی خصوصیت ہے۔ ہندوستان ایک ملک نہیں وہ کئی مختلف ملکوں کا مجموعہ ہے۔ آسنصول میں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ مسلمانوں کا نوجوان طبقہ تعمیری کاموں کی طرف متوجہ ہے، مسجد میں امام اور مؤذن کے معیار کو بہتر بنانا، مدرسے کو ترقی دینا، لائبریری قائم کرنا، قوم کے مختلف حلقوں کو جوڑنا، نو جوان نسل کو دینی اور تعمیری رخ پر ڈالنے کی کوشش کرنا۔ یہ مناظر یہاں کے قیام کے دوران واضح طور پر نظر آئے۔ مجھے یہاں مدرسہ مصباح العلوم کے سالانہ اجلاس کی صدارت کے لیے بلایا گیا تھا۔ مدرسہ کے سکریٹری جناب سمیع الدین صاحب نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یہ مدرسہ 1912 میں قائم ہوا۔ اس میں مقامی طلبہ کے علاوہ بیرونی طلبہ تقریباً ایک سو زیر تعلیم ہیں۔ اس کا طریقہ تعلیم درس نظامیہ کے نصاب پر مبنی ہے۔ فی الحال اس مدرسہ میں عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم سے لے کر مشکوٰۃ تک تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ حفظ اور قرآت کی تعلیم کا بھی معقول انتظام ہے۔ اس کے تحت بارہ اساتذہ کام کر رہے ہیں۔ مدرسہ میں ایک دار الافتاء بھی ہے۔ مدرسہ کا پرائمری سکشن حکومت بنگال سے منظور شدہ ہے۔ اس سیکشن میں طلبہ کی تعداد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader