اتم گیت
Urdu book, p. 288
By Maulana Wahiduddin Khan
250 ہے۔ شہر کے مختلف محلوں میں مدرسہ کی پانچ شاخیں قائم ہیں جن میں طلبہ کی تعداد عمومی طور پر 800 ہے۔ مدرسہ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر جو وسیع ڈائنس تیار کیا گیا تھا اس میں ایک پرکشش چیز یہ دکھائی دی کہ ڈائنس کے دونوں طرف الرسالہ کے صفحہ اول کے دو اقتباسات جلی حرفوں میں لکھ کر لگائے گئے تھے۔ یہ دونوں اقتباسات حسب ذیل تھے: بلند مقام ہمیشہ اپنے آپ کو بلند کرنے سے ملتا ہے، نہ کہ نعرے اور جھنڈے کو بلند کرنے سے۔ (الرسالہ، اگست 1984) دوسروں سے نہ لڑنے کے لیے اپنے آپ سے لڑنا پڑتا ہے۔ (الرسالہ، اکتوبر 1983) اس قسم کا کام یہاں نوجوانوں کی ایک ٹیم کر رہی ہے جو حال میں ابھری ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ یہاں کے نوجوانوں میں جو تعمیری رجحان ابھرا ہے، اس میں الرسالہ کا خاص دخل ہے۔ یہاں الرسالہ کے پڑھنے والے کافی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اکثر مقامات پر دینی پرچوں میں اب الرسالہ ہی سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ الرسالہ اب خدا کے فضل سے دورِ حاضر میں مسلمانوں کی حقیقی بیداری کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ آسانسول میں قیام کے دوران بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس طرح کی ملاقاتوں میں اکثر لوگ مسائلِ عالم پر گفتگو کرتے ہیں۔ مگر میری ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ آدمی کے شخصی تجربات کو جانوں۔ کیونکہ شخصی تجربات میں حقیقی سبق ہوتا ہے جب کہ مسائلِ عالم کی بحثیں الفاظ کی بے فائدہ نمائش کے سوا اور کچھ نہیں۔ آسانسول کی ایک تقریر میں میں نے کہا کہ اس ملک کے مسلمانوں کی پسماندگی کی وجہ یہ ہے کہ ان کے لیڈر انہیں رزرویشن کا سبق دیتے رہے۔ مگر یہ مقابلہ کی دنیا ہے۔ یہاں اہلیت کا ثبوت دے کر کسی کو جگہ ملتی ہے۔ رزرویشن کی باتیں کرنا محض ایک مادی فریب ہے۔ کیوں کہ اس طرح کچھ لوگوں کو سستی قیادت تو مل سکتی ہے، مگر اس طرح اصل مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader