اتم گیت
Urdu book, p. 289
By Maulana Wahiduddin Khan
4 مئی کی صبح کو آسنسول سے کلکتہ گیا۔ کم وقت کی وجہ سے وہاں زیادہ پروگرام نہ رکھے جاسکے۔ تاہم اسلامیہ ہال میں ”اسلام اور عصرِ حاضر“ کے موضوع پر ایک خطاب ہوا۔ اخبار مشرق کے نمائندوں سے ملاقات ہوئی اور مدرسہ باب العلوم کا معائنہ کیا، وغیرہ۔ مدرسہ باب العلوم تقریباً بیس سال سے قائم ہے۔ مدرسہ کے بانی قاری محمد اسمعیل ظفر صاحب کے والد تھے۔ وہ ایک درویش صفت بزرگ تھے۔ وہ اینٹ کا تکیہ لگا کر سوتے تھے۔ کھانا اور کپڑا بے حد معمولی استعمال کرتے تھے۔ ان کے صاحبزادے نے ایم اے کیا تھا۔ اس کے بعد وہ کسی جدید ادارہ میں کام کرنا چاہتے تھے۔ مگر ان کے والد نے اصرار کیا کہ تم کو مدرسہ والا کام کرنا ہے۔ سعادت مند صاحبزادے نے والد کی بات کے آگے سپر ڈال دیا اور مدرسہ کے کام میں لگ گئے۔ مدرسہ باب العلوم ایک غیر معروف مدرسہ ہے۔ کلکتہ کے موجودہ سفر سے پہلے مجھے مدرسہ کے بارے میں مطلق کوئی واقفیت نہ تھی اور نہ میں اس مدرسہ کے ذمہ داروں کے نام سے واقف تھا۔ مگر معائنہ کے دوران معلوم ہوا کہ ابتدائی سطح پر یہ ایک معیاری دینی مدرسہ ہے۔ ان کے پاس زیادہ بڑی جگہ نہیں۔ مگر عالم یہ ہے کہ اس وقت سات سو طلبہ کی درخواست داخلہ ”ویٹنگ لسٹ“ پر ہے۔ مگر جگہ کی کمی کے باعث وہ ان کو نہیں لے سکتے۔ اس تجربہ کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں نے تاریخِ اسلام کے ایک سوال کا جواب پا لیا ہے۔ اسلامی تاریخ کی کتابوں میں اس بات کی تفصیل نہیں ملتی کہ تاریخِ اسلام کے بعض بہت بڑے بڑے واقعات کی طرح ظہور میں آئے مثلاً دورِ اول میں ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں اسلام کی اشاعت تا تاریوں کا مسلمان ہونا۔ کتابوں سے واضح طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ واقعات کن لوگوں کے ذریعہ اور کس طرح وقوع میں آئے۔ ان واقعات کے غیر مذکور ہونے کی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ غیر مشہور لوگوں کے ذریعہ انجام پائے۔ یہ قاعدہ ہے کہ جو لوگ سیاسی انداز سے کام کرتے ہیں یا جن کا حکمرانوں سے ٹکراؤ پیش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader