Urdu book · علما اور دینی مدارس

دور صحابہ کے طرز کے مدرسے

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

کر پڑھتا ہے، اس کی صداقت کو ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اسی طرح رسول ﷺ کی زندگی اور آپ کے اصحاب کے حالات انسانی تاریخ کا انتہائی حیرت ناک انقلابی واقعہ ہیں جو زندگیوں کو گرما نے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ دورِ اول کے مدرسے میں انہی چیزوں کو زندہ کرنے کے ادارے تھے۔ وہ سادہ طور پر عربی زبان سکھا کر آدمی کو قرآن و حدیث سے وابستہ کر دیتے تھے۔ اس کے بعد آدمی ایمان اور حرارت کے ان خزانوں سے براہ راست اپنا دین اخذ کرنے لگتا تھا۔ علم دین اس کے لیے صحبت رسول ﷺ اور صحبت صحابہ کے ہم معنی بن جاتا تھا۔ خدا کی کتاب اس کی فطرت کو جگاتی تھی۔ رسول اور آپ کے اصحاب کی انقلابی زندگیاں اس کے سینہ میں عمل کی آگ بھر دیتی تھیں۔ اس طرح زندہ انسانوں کی وہ فوج تیار ہوتی تھی جو خدا کے لیے جینے اور خدا کے لیے مرنے کے سوا کوئی اور بات اس دنیا میں نہ جانتی تھی۔ آج ہمارے یہاں پہلے سے بھی زیادہ بڑی تعداد میں مدرسے قائم ہیں۔ مگر آج ان مدرسوں کا وہ فائدہ ظاہر نہیں ہو رہا ہے، جو دورِ اول میں ظاہر ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مدرسے اپنے ڈھانچے کے اعتبار سے اس سے بالکل مختلف ہیں جو صحابہ و تابعین نے قائم کیے تھے ۔ موجودہ زمانہ کے مدرسوں میں تعلیم دین کو ایک فن بنا دیا گیا ہے۔ قرآن اس لیے اترا کہ اس کو پڑھ کر لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوں اور ان کے دل خدا کی یاد سے دہل اٹھیں (الانفال، 8:2)۔ مگر ان مدرسوں کے نصاب میں قرآن کو صرف ضمنی مقام حاصل ہے۔ احادیث و آثار کا مقام ہمارے مدرسوں میں صرف یہ ہے کہ ان کو عنوان بنا کر جزئیات فقہ کے کچھ خود ساختہ مسائل پر لامتناہی بحثیں جاری رکھی جا سکیں۔ اسی کے ساتھ "علوم آلیہ" کے نام پر جو فنون پڑھائے جاتے ہیں وہ اتنے فرسودہ ہیں کہ ذہن کو جمود اور لایعنی موشکافیوں کا عادی بنانے کے سوا کوئی دوسری خدمت انجام نہیں دے سکتے۔ اسلامی مدرسہ کی فضا کو اللہ کی بڑائی کے چرچے سے معمور رہنا چاہیے ۔ مگر ہمارے موجودہ تعلیمی ادارے اپنے بزرگوں کی کبریائی کا سبق دینے کے لیے وقف رہتی ہیں۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ یہاں لوگوں کو ایمانی حرارت کا سبق ملے، یہاں اعلیٰ انسانی کردار ڈھلیں ۔ یہاں خدا اور آخرت کی تڑپ رکھنے والے لوگ پیدا ہوں، یہاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page