Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 290

By Maulana Wahiduddin Khan

آتا ہے وہ بہت جلد شہرت عام حاصل کر لیتے ہیں۔ اشاعت اسلام کے میدان میں کام کرنے والے یہ لوگ چونکہ سیاست و حکومت سے الگ تھے اس لیے وہ غیر مشہور رہ گئے اور اسی طرح ان کے کام کی تفصیلات بھی۔ اکثر زیادہ بڑا کام کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں، جو بظاہر دیکھنے والوں کو بہت چھوٹے دکھائی دیتے ہیں۔ آسنصول اور کلکتہ میں جو گفتگوئیں اور تقریریں ہوئیں ۔ ان کا موضوع مشترک طور پر یہ تھا کہ دور جدید میں ہم کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے۔ اس کا مقابلہ نہ روایتی وعظ سے کیا جا سکتا ہے اور نہ پر جوش خطابت سے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ایک طرف اسلام کو اس کی اصل حیثیت میں جانیں اور دوسری طرف عصر حاضر کو گہرائی کے ساتھ سمجھیں۔ دونوں کو بخوبی طور پر جاننے کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ دور جدید میں اسلام کو اور مسلمانوں کو اٹھانے کی مؤثر جدوجہد کی جاسکے۔ 4 مئی 1985 کی شام کو انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ کے ذریعے کلکتہ سے دہلی واپس پہنچ گیا۔ (الرسالہ، ستمبر 1985) مزاج کا فرق ہمارے مدرسوں میں جب استاد کوئی مضمون پڑھائے گا تو اپنی بات کہنے کے بعد وہ طلبہ سے کہے گا۔ کیا میری بات سمجھ میں آئی ۔ کیا میری بات سمجھ گئے تم لوگ۔ لیکن، مغربی یونیورسٹیوں میں جب ایک پروفیسر لیکچر دیتا ہے تو اپنی بات کہنے کے بعد وہ طلبہ سے اس طرح نہیں پوچھتا۔ بلکہ خود اپنے اوپر لیتے ہوئے کہتا ہے کہ کیا میں اپنی بات واضح کر سکا Am I clear? یہ دو الگ الگ کلچر ہیں اور دونوں سے الگ الگ مزاج بنتا ہے۔ اول الذکر سے ذاتی برتری کا مزاج بنتا ہے اور ثانی الذکر سے تواضع اور ماڈسٹی کا مزاج۔ (ڈائری، 26 فروری 1996)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page