الجامعۃ الاسلامیہ
Urdu book, p. 296
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اس کا مطلب اپنی نفی ہے۔ اور کون ہے جو اپنی نفی کی قیمت پر حق کا اعتراف کرے۔ المعهد العالی للدعوة الاسلاميه (مدینہ) کی طرف سے ایک ماہانہ پرچہ نکلتا ہے جس کا نام ہے رسالة المعهد۔ اس کے نمائندہ محمد ضیاء الدین صاحب نے 5 مارچ کی شام کو رسالة المعهد کے لیے انٹرویو لیا۔ محمد ضیاء الدین صاحب نو جوان ہیں اور حلب (شام) کے رہنے والے ہیں۔ اس وقت وہ مدینہ میں وزارتِ الاعلام کے تحت کام کر رہے ہیں۔ رسالة المعهد کے جوابات کا اردو ترجمہ یہاں بطور نمونہ نقل کیا جاتا ہے۔ 1۔ دعوتِ اسلامی کا مطلب میرے نزدیک دعوت الی اللہ ہے۔ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کو جو چیلنج درپیش ہے وہ میرے نزدیک الحادی فکر کا غلبہ ہے۔ اس لیے دعوتِ اسلامی کی راہ ہموار کرنے کے لیے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ دنیا سے الحادی فکر کا غلبہ ختم کیا جائے۔ قدیم زمانے میں مادی مظاہر کو خدا قرار دے کر انسان نے خدا کو چھوڑ دیا تھا۔ موجودہ زمانے میں مادی مظاہر کے پیچھے کام کرنے والے سلسلۂ اسباب کو خدا قرار دے دیا گیا ہے اور اسی کا نام الحاد ہے۔ جب تک اس فکری ڈھانچہ کو توڑا نہ جائے کوئی دوسرا کام نہیں کیا جا سکتا۔ 2۔ موجودہ زمانے کے داعیوں کا اصل مسئلہ وہ ہے جو داخلی ہے۔ وہ ابھی تک دعوت اور قومیت کو اور اسی طرح دعوت اور سیاست کو الگ الگ نہیں کر سکے ہیں۔ جس دن وہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے میں کامیاب ہوں گے اسی دن ان کے مسائل کے خاتمہ کا بھی آغاز ہو جائے گا۔ 3۔ صحافت یقیناً اسلامی دعوت کے لیے نہایت اہم ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ مسلمان ابھی تک صرف قومی صحافت کو جانتے ہیں، وہ عالمی صحافت کے میدان میں داخل نہیں ہوئے۔ عالمی صحافت کے لیے موضوعیت (objectivity) لازمی طور پر ضروری ہے اور مسلمان موضوعیت سے محروم ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader