Urdu book · علما اور دینی مدارس

الجامعۃ الاسلامیہ

Urdu book, p. 297

By Maulana Wahiduddin Khan

میری زندگی کسی "حادثہ" کے نتیجہ میں نہیں بنی۔ میں نے اسلامی علوم اور غیر اسلامی علوم کا تقریبا 40 سال تک مطالعہ کیا ہے۔ میری شخصیت اسی مطالعہ کے ذریعہ بنی ہے۔ 5۔ جدید علمی انکشافات کو تفسیر قرآن میں استعمال کرنا میرے نزدیک عین درست ہے، شرط صرف یہ ہے کہ معیار اصلی قرآن ہو، نہ کہ جدید انکشافات۔ یعنی جدید انکشافات کو قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے، نہ کہ قرآن کو جدید انکشافات کی روشنی میں۔ علمی نظریات کے بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دور اول میں جب قرآن نے کہا کہ زمین و آسمان کی نشانیوں پر غور کرو تو انسان نے اپنی اس وقت کی معلومات کی روشنی میں زمین و آسمان پر غور کیا۔ آج بھی یہی ہوگا کہ انسان اپنی موجودہ معلومات کی روشنی میں آیات پر غور کرے گا۔ اس کی وجہ سے نہ پہلے کوئی اعتقادی خرابی پیدا ہوئی اور نہ آج ہوسکتی ہے۔ ایک غیر عرب سے ملاقات ہوئی۔ وہ عالم تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ قرآن پر ایک تحقیقی کتاب لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی عمر کا بڑا حصہ قرآن کے مطالعہ میں گزارا ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اپنے مطالعہ کی روشنی میں بتائیے کہ قرآنی تعلیمات کا خلاصہ کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا "اس حیثیت سے میں نے زیادہ غور نہیں کیا۔ میرے لیے یہ سوال اچانک ہے۔ اس لیے مجھے سوچ کر بتانا ہوگا“۔ اسی طرح ایک اور صاحب ملے انہوں نے کہا کہ میرا موضوع قرآن ہے۔ میں نے کہا کہ کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے خود قرآن میں پائی ہو، جو آپ کی اپنی دریافت ہو۔ مگر وہ قرآن سے کسی ایسی حقیقت کی نشاندہی نہ کر سکے جو انہوں نے خود در یافت کی ہو — کیسے عجیب ہوں گے وہ قرآن کو پڑھنے والے جن کے ذہنی اثاثہ خانہ میں قرآن نے کسی نئی چیز کا اضافہ نہ کیا ہو۔ اس سفر کے دوران ایک عرب ملک کی ایک بڑی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ عرب امام نے کافی لمبا خطبہ دیا۔ اس خطبہ میں "بیع" کے مسائل نہایت تفصیل سے بیان کیے گئے تھے۔ تاہم ان مسائل میں اکثر ایسے تھے جن کا آج کے حالات سے کوئی تعلق نہیں۔ ایسا محسوس ہوا کہ وہ بس کتاب کی باتوں کو دہراتے چلے جا رہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page