الجامعۃ الاسلامیہ
Urdu book, p. 298
By Maulana Wahiduddin Khan
مثلاً انہوں نے کہا کہ جو لوگ مسلمانوں سے جنگ کریں ان کو ہتھیار بیچنا حرام ہے (بَيْعُ السِّلاحِ عَلَى مَنْ يُحَارِبُ الْمُسْلِمِينَ حَرَامٌ) ۔ یہ مسئلہ صلیبی جنگوں کے زمانے کا ہے۔ اس زمانے میں عراق و شام کے علاقہ میں دنیا کے بہترین ہتھیار بنتے تھے۔ چنانچہ جنگ کے وقفوں میں یورپی تاجر یہاں آ کر ہتھیار خرید لیتے تھے۔ چونکہ یہ اندیشہ تھا کہ یہ ہتھیار وہ یورپی قوموں کے ہاتھ بیچیں گے اور وہ ان کو اگلی صلیبی جنگ میں مسلمانوں کے خلاف استعمال کریں گے۔ اس لیے اس وقت کے علما نے فتویٰ دیا کہ جو لوگ مسلمانوں سے برسر جنگ ہوں ان کو ہتھیار فروخت کرنا حرام ہے۔ یہ مسئلہ خود بتاتا ہے کہ وہ ایسے وقت سے متعلق ہے جب کہ مسلمان ہتھیار فروخت کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ مگر موجودہ زمانے میں تو مسلمان صرف اس کے خریدار ہو کر رہ گئے ہیں۔ آج ہتھیاروں کی صنعت پوری طرح ”کافروں“ کے ہاتھ میں جا چکی ہے۔ اور خود مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ ان سے ہتھیار خریدے بغیر اپنے دشمنوں سے اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔ ہمارے اکثر بڑے بڑے خطیبوں کا یہ حال ہے کہ جب وہ بولتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ”بیسویں صدی میں نہیں بول رہے ہیں“ بلکہ ”صلاح الدین کے منبر“ پر کھڑے ہو کر اقوام عالم کو خطاب کر رہے ہیں۔ 5 مارچ کو دو پہر کا کھانا رئیس جامعۃ اسلامیہ ڈاکٹر عبد اللہ صالح العبید کی طرف سے تھا۔ انہوں نے میرے اعزاز میں مدینہ کے ہوٹل میں ظہرانہ دیا۔ اس ظہرانہ میں چنی ہوئی اعلیٰ شخصیات موجود تھیں جس میں وزارت تعلیم کے وکیل بھی تھے۔ اسی طرح ایک اور صاحب نے ایک خصوصی دعوت کی جس میں رابطہ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل کے پی اے استاد اسامہ خلیفہ بھی شریک تھے۔ ان مواقع پر ذمہ دار لوگوں سے باتیں ہوئیں۔ شیخ محمد عمر فلانہ سے اسلامی مرکز کے موضوع پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہم سیاست سے دور رہ کر خالص دعوت کے میدان میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں میری زبان سے نکلا کہ ہندوستان کے حالات میں مؤثر کام کرنے کے لیے سیاست سے دور رہنا ضروری ہے۔ شیخ محمد عمر فلانہ نے فوراً کہا کہ ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ ہر ملک میں ضروری ہے۔ سیاست میں مشغول ہو کر کوئی مؤثر کام نہیں کیا جا سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader