الجامعۃ الاسلامیہ
Urdu book, p. 299
By Maulana Wahiduddin Khan
رئیس الجامعہ ڈاکٹر عبداللہ صالح العبید سے میں نے پوچھا کہ آپ نے الاسلام متحدی پڑھی ہے۔ انہوں نے فوراً کہا: کس نے نہیں پڑھی ہے۔ اکثر لوگ مجھ سے یہ پوچھتے ہیں کہ الاسلام متحدی کے بعد دوسری تصنیفات کیا ہیں اور وہ عربی میں منتقل ہوئیں یا نہیں۔ یہاں جس جگہ بھی جانا ہوا یا جس سے بھی ملاقات ہوئی اس نے یہی بتایا کہ اس نے الاسلام متحدی پڑھی ہے۔ بعض نے کہا کہ میں نے اس کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے ۔ اور اس کو پڑھنا چاہتا ہوں۔ الجامعة الاسلامیۃ میں انڈونیشیا کے ایک طالب علم نے بتایا کہ انڈونیشی زبان میں بھی الاسلام متحدی کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے میرا پتہ لیا اور کہا کہ اس کا ایک نسخہ میں آپ کو ڈاک سے روانہ کروں گا۔ 10 مارچ کی شام کو شیخ محمد عمر فلانہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے الجامعة الاسلامیۃ کے بعض عجیب واقعات سنائے۔ انہوں نے بتایا کہ میں جامعہ کے تحت ایک سفر کے دوران کیمرون گیا۔ وہاں جامعہ کے ایک فارغ طالب علم سے ملاقات ہوئی تو وہ بار بار جامعہ کے ایک مستخدم (ملازم) کے بارے میں سوال کرتا اور اس کا حال پوچھتا۔ میں نے پوچھا کہ تم جامعہ کے شیوخ سے زیادہ مستخدم کے حالات دریافت کر رہے ہو، کیا بات ہے۔ اس کے بعد اس نے بتایا کہ میں تعلیم کی غرض سے جامعہ گیا۔ میں اپنے ساتھ کوئی رقم نہیں لے گیا تھا۔ کیوں کہ میں سمجھتا تھا کہ ساری کفالت جامعہ کی طرف سے ہوگی۔ جب وہ مدینہ کے ایئر پورٹ پر اترا تو اس کو یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کہ وہاں کوئی گاڑی اس کی مدد کے لیے موجود نہیں ہے۔ نو جوان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ ٹیکسی کرے۔ اگرچہ اس کی جیب میں کوئی رقم موجود نہ تھی۔ تاہم اس نے ٹیکسی کی اور اس کے ذریعہ ایئر پورٹ سے جامعہ پہنچا۔ یہاں جب ٹیکسی والے نے کرایہ (پندرہ ریال) مانگا تو نو جوان نے کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس پر ٹیکسی والا غصہ میں آ گیا۔ اور نو جوان کو دھوکہ باز، شیطان وغیرہ کہنے لگا۔ نو جوان بے بسی کے انداز میں ٹیکسی والے کی سخت کلامی کو سن رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader