Urdu book · علما اور دینی مدارس

الجامعۃ الاسلامیہ

Urdu book, p. 300

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں آتا تھا کہ کیا کرے ۔ اتنے میں جامعہ کا ایک مستخدم شور سن کر وہاں آگیا اور ٹیکسی والے سے کہا کہ تم کیوں اس طالب علم کو پریشان کر رہے ہو۔ اس نے کہا کہ یہ دھوکہ باز ہے۔ مجھ کو ایئر پورٹ سے لایا اور اب کرایہ دینا ہے تو کہتا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں۔ مستخدم نے کہا کہ اپنی زبان روکو، یہ ضیوف الرحمن ہیں اور یہ مجھ سے اور تم سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔ اس کے بعد مستخدم نے اپنی جیب سے پندرہ ریال نکالے اور اس کو ٹیکسی کے مالک کے حوالے کیا۔ اس کے بعد یہ مستخدم نو جوان کو لے کر دفاتر میں گیا۔ ضروری کارروائی کرائی اور اس کے سامان کو اس کے کمرہ تک پہنچایا۔ آخر میں جب وہ رخصت ہونے لگا تو اس نے دوبارہ اپنی جیب سے 20 ریال نکالے اور طالب علم کے حوالے کر کے باہر چلا گیا۔ ایک ہندوستانی طالب علم سے میں نے عربوں کے بارے میں ان کے تجربات پوچھے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عربوں میں ایک خاص بات یہ دیکھی کہ ان کے اندر توسع کا مزاج ہوتا ہے جو ہندوستان اور پاکستان جیسے علاقوں میں دیکھنے میں نہیں آتا۔ ہم لوگ کسی محفل میں ایک تقریر کرتے ہیں یا کسی موقع پر ایک سوال کا معمولی جواب دیتے ہیں تو ہمارے اساتذہ فراخ دلی کے ساتھ احسنت احسنت کہتے ہیں۔ ان کا مزاج ہوتا ہے کہ جو خوبی ہے اس کا بھر پور اعتراف کیا جائے اور جو کمی ہے اس کو نظر انداز کیا جائے ۔ 5 مارچ کی صبح کو ہم دو فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ مدینہ کے تاریخی آثار دیکھنے کے لیے نکلے۔ تقریباً نصف دن گزرا۔ مصطفے شاور ( فلسطینی ثم اردنی ) کو آثار عرب کے بارے میں خاصی معلومات ہیں۔ چنانچہ وہ رہنمائی کرتے رہے۔ مدینہ میں رسول اللہ اور صحابہ کے زمانے کے اصل آثار اب بہت کم باقی ہیں۔ ان آثار کی ایک حیثیت تاریخی تھی اور دوسری یہ تھی کہ لوگ ان کو مقدس قرار دے کر یہاں آ کر مشرکانہ افعال کرتے تھے۔ ذمہ داروں نے ان کی دوسری حیثیت کی بنا پر انہیں ختم کر دیا۔ اس وقت جو آثار ہیں ان میں اکثر وہ ہیں جہاں نئی تعمیرات کھڑی ہیں۔ مثلاً ایک شخص آپ کو بتائے گا کہ یہاں سقیفہ بنی ساعدہ تھا۔ مگر آج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page