Urdu book · علما اور دینی مدارس

الجامعۃ الاسلامیہ

Urdu book, p. 301

By Maulana Wahiduddin Khan

وہاں صرف کھجور کے درخت نظر آتے ہیں۔ مسجد الجمعہ اور مسجد قبا آج موجود ہیں، مگر ان کی تعمیرات وہ نہیں ہیں جو ابتدا میں تھیں۔ تاہم کچھ چیزیں آج بھی اپنی ابتدائی شکل میں موجود ہیں۔ مثلاً بئر رومہ جس کو حضرت عثمان نے ایک یہودی سے خرید کر عام مسلمانوں کے لیے وقف کیا تھا۔ اسی طرح کعب بن اشرف کا قلعہ نما مکان بھی کھنڈر کی صورت میں ابھی تک موجود ہے۔ ہم نے یہ مقامات دیکھے۔ ان کو دیکھ کر عجیب عبرت حاصل ہوئی۔ پھر ہم احد پہاڑ کو دیکھنے گئے۔ یہاں دیگر آثار کے علاوہ وہ شق (غار) بدستور موجود ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے شکست کے بعد پناہ ملی تھی۔ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑ کے اوپر چڑھ کر غار میں داخل ہوا اور ان پتھروں پر دیر تک بیٹھا رہا جہاں حسب روایت رسول اللہ ﷺ زخمی ہونے کے بعد بیٹھے تھے۔ اس وقت طبعیت پر عجیب اثر ہوا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے تاریخ کا درمیانی وقفہ حذف ہو گیا ہے اور میں براہ راست رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں پہنچ گیا ہوں۔ ایک عرب عالم نے کہا کہ میں نے آپ کی کتاب الاسلام متحدی پڑھی، الدین فی مواجہۃ العلم پڑھی، الاسلام والعصر الحدیث پڑھی یہ سب کتابیں مجھے پسند آئیں۔ ان کتابوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر رحمت کا دروازہ کھولا ہے۔ مگر اس کے بعد میں نے آپ کی کتاب "حکمۃ الدین" پڑھی تو وہ پسند نہیں آئی۔ اس میں آپ نے اخوان المسلمین کی سیاست پر تنقید کی ہے۔ یہ زمانہ ایسا ہے کہ دشمنان اسلام ہمارے اختلاف سے فائدہ اٹھانے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ہم کو صرف وہی باتیں کرنی چاہئیں جس سے اتفاق پیدا ہو۔ اس قسم کی باتیں اور بھی کئی بار سننے کو ملی ہیں۔ مگر میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسا عجیب مطالبہ ہے۔ جن جماعتوں پر میں نے تنقید کی ہے، وہ موجودہ زمانے میں باہمی اختلاف کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ انہوں نے مسلم ملکوں میں مسلمانوں کو حکمران اور غیر حکمران کے دو طبقوں میں بانٹ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page