علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 302
By Maulana Wahiduddin Khan
رکھا ہے اور دونوں کے درمیان زبردست ٹکراؤ جاری کر دیا ہے۔ میں تو زیادہ سے زیادہ صرف علمی تنقید کرتا ہوں۔ جب کہ دوسرے لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اختلاف سے گزر کر مسلمانوں کو باہمی تصادم میں ڈال دیا ہے۔ پھر بھی اختلاف پیدا کرنے کا الزام میرے اوپر ہے۔ تاہم عربوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود کسی آدمی سے محبت کر سکتے ہیں۔ عرب نو جوانوں کی بڑی تعداد اخوانی تحریک سے متاثر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ میں اخوانی تحریک کا ناقد ہوں۔ اس کے باوجود الاسلام متحدی کی بنیاد پر وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ محمد ضیاء الدین ملانجی ( حلب ، شام ) اخوانی نوجوان ہیں اور اخوانیوں کے بارے میں میرے خیالات کو جانتے ہیں۔ مگر وہ نہایت احترام اور محبت کے ساتھ مجھ سے ملتے رہے۔ وہ دوسری بار آئے تو بتایا کہ میں نے شام میں اپنے والد سے ٹیلیفون پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میں خود نہیں آسکتا۔ تم شیخ وحید الدین کو میرا سلام کہو اور میری طرف سے ان کے ہاتھ کا بوسہ دو (قَبَّلَ يَدَهُ بِالنِّيَابَةِ عَنِّي) ۔ 12 مارچ 1984 کو مسجد نبوی میں فجر کی نماز پڑھی۔ یہ مسجد نبوی میں ہماری آخری نماز تھی ۔ نماز سے فارغ ہو کر جب میں باہر نکل رہا تھا تو بے اختیار میری زبان سے نکلا: خدایا یہ وہ مقام ہے جہاں تیرے پیغمبر نے نمازیں پڑھی ہیں۔ جہاں پیغمبر کے اصحاب کے قدم پڑے ہیں۔ جہاں ان لوگوں کی مجلسیں قائم ہوئی ہیں جن کو تو نے جنت کی بشارت دی ہے۔ خدایا مجھے بھی اس مجلس میں شریک ہونے والوں میں شامل فرما۔ خدایا، جس طرح تو نے انھیں بخشا اسی طرح مجھے بھی اپنی رحمت سے بخش دے۔ 12 مارچ کی دوپہر کو ہم مدینہ سے ریاض پہنچے۔ (الرسالہ، جولائی 1984) ریاض مارچ 1984 میں الجامعة الاسلامیہ کی دعوت پر مدینہ ( سعودی عرب ) کا سفر ہوا۔ مدینہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader