رياض
Urdu book, p. 303
By Maulana Wahiduddin Khan
سے واپسی میں، میں اور مولانا محمد ہاشم القاسمی 12 مارچ کی دوپہر کو ریاض پہنچے۔ ریاض قدیم زمانہ میں ایک گاؤں تھا جس کا نام حجر الیمامہ تھا۔ 14 مارچ 1984 کو سعودی عرب کے سب سے بڑے عالم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز کو ٹیلی فون پر بتایا گیا کہ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں۔ وہ مجھ سے بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”شیخ سے میرا سلام کہو اور یہ کہو کہ آج دوپہر کا کھانا میرے ساتھ کھائیں“۔ چنانچہ ہم لوگ ظہر کی نماز کے بعد ان کے مکان پر پہنچے۔ یہ غیر معمولی طور پر ایک بہت بڑا مکان تھا۔ ایک نہایت وسیع ہال میں نشست تھی۔ تقریباً بیس علما کرسیوں پر موجود تھے۔ مجھ کو شیخ ابن باز کی بالکل قریبی کرسی پر بٹھایا گیا۔ اس کے بعد حسب معمول قہوہ آیا۔ آدمی نے پہلی پیالی شیخ ابن باز کی طرف بڑھائی۔ شیخ نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: فَضّلْ يَا شَيْخ - شیخ ابن باز نہایت عزت اور محبت کے ساتھ پیش آئے۔ زیادہ تر مسلم دنیا اور میرے کام کے بارے میں گفتگو کرتے رہے۔ کھانا کھانے کے بعد دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔ ریاض سے روانگی کے دن دوبارہ شیخ ابن باز سے ان کے دفتر میں ملنے گیا۔ شیخ کا دفتر اتنا بڑا ہے کہ وہ حکومت کا سکریٹریٹ معلوم ہوتا ہے۔ شیخ ایک بہت بڑے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کرسیوں پر نشست تھی۔ وہ عام طور پر لوگوں کو بیٹھے بیٹھے رخصت کر رہے تھے۔ مگر جب میں سامنے آیا تو شیخ فوراً کھڑے ہو گئے اور دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ مجھ کو رخصت کیا۔ 14 مارچ کو ڈاکٹر عبداللہ بن عبد المحسن الترکی سے ملاقات کا پروگرام تھا۔ وہ سعودی عرب کی سب سے بڑی یونی ورسٹی جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ کے مدیر (Rector) ہیں۔ ان کا دفتر اتنا بڑا ہے جو خود ایک یونی ورسٹی معلوم ہوتا ہے۔ ملاقات کا کمرہ ہندوستان کے وزیراعظم کے کمرہ سے بھی زیادہ وسیع اور شاندار نظر آیا۔ تاہم اس کے اندر جو انسان بیٹھا ہوا تھا وہ سراپا تواضع اور سنجیدگی کی تصویر معلوم ہوتا تھا۔ زیادہ تر ہندوستان کے حالات اور اسلامی مرکز (دہلی) کے بارے میں گفتگو رہی۔ آخر میں وہ نماز ظہر کے لیے اٹھے۔ میں یہ سمجھا کہ وہ عقبی کمرہ میں نماز ادا کرنے کے لیے جا رہے ہیں۔ مگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader