Urdu book · علما اور دینی مدارس

رياض

Urdu book, p. 304

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ ہمارے ساتھ بیرونی دروازہ کی طرف چلے، یہاں تک کہ ہم لوگ زینہ سے اتر کر قریب کی مسجد میں پہنچے جو مدیر کے دفتر سے متصل بنائی گئی ہے۔ یہاں کافی لوگ نماز کے لیے جمع تھے۔ ڈاکٹر ترکی چلتے رہے یہاں تک کہ وہ امام کی جگہ پہنچ گئے۔ اب مجھے معلوم ہوا کہ جو شخص یونی ورسٹی کا ریکٹڑ ہے وہ یہاں کی مسجد کا امام بھی ہے۔ ڈاکٹر عبد الحلیم عویس جامعة الامام میں علوم اجتماعیہ (Social Sciences) کے پروفیسر ہیں۔ ان سے بڑی دلچسپ اور مفید ملاقاتیں رہیں۔ ایک گفتگو میں انہوں نے بڑی عمدہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ انسان مال بناتا ہے مگر مال انسان نہیں بناتا (الْإِنْسَانُ يَصْنَعُ الْمَالَ، وَلَكِنَّ الْمَالَ لَا يَصْنَعُ الْإِنْسَانَ)۔ ڈاکٹر عبد الحلیم عویس مصری ہیں اور نہایت ذہین ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کئی مصریوں نے اردو پڑھی ہے اور وہ اردو اتنی ہی اچھی جانتے ہیں جتنا کہ اہل زبان (هُمْ يُجِيدُونَ الْأُرْدِيَّةَ كَأَهْلِهَا)۔ ڈاکٹر عبد الحلیم عویس نے اخبار الشرق الاوسط کے لیے میرا انٹرویو لیا۔ ریاض میں ایک سعودی نوجوان عبد اللہ الشویعر سے ملاقات ایک یادگار ملاقات تھی۔ ان کے پاس میری تمام عربی کتابیں کئی کئی تعداد میں موجود ہیں۔ وہ خود پڑھنے کے علاوہ دوسروں کو بھی تقسیم کرتے رہتے ہیں۔ ایک روز گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واللہ ہم آپ سے صرف اللہ کی خاطر محبت کرتے ہیں۔ ہم کو تمام اسلامی مصنفین سے محبت ہے اور آپ اس میں چوٹی پر ہیں (وَأَنْتُمْ عَلَى قِمَّتِهَا)۔ ساحل العاج کے ایک نوجوان ابو بکر السماسی سے ملاقات ہوئی۔ وہ یہاں جامعۃ الامام میں کلیۃ الشریعۃ کے طالب علم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ساحل العاج کی آبادی 10 ملین ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس میں سے 45 فی صد مسلمان ہیں۔ تاہم خود مسلمانوں کا خیال ہے کہ ان کی آبادی 65 فی صد سے کم نہیں۔ یہاں کی سرکاری زبان فرانسیسی ہے۔ صدر حکومت مسلمان ہے اور وزارت میں کئی مسلمان شامل ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page