Urdu book · علما اور دینی مدارس

رياض

Urdu book, p. 305

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ نوجوان سے میں نے پوچھا کہ ساحل العاج میں مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا، ہاں۔ مسلمانوں نے یہاں کی یونی ورسٹی میں شاندار مسجد بنا لی ہے۔ ٹیلی ویژن پر ہر جمعہ کو اسلامی پروگرام ہوتا ہے۔ ان کو حکومت ہر طرح کی سہولت دیتی ہے، وغیرہ۔ مگر اس کو انہوں نے حکومت کے ”تملق“ سے تعبیر کیا۔ یہ بھی عجیب ذہن ہے کہ حکومت اگر کچھ کرے تو وہ تملق ہے اور نہ کرے تو ظالم۔ انہوں نے بتایا کہ ساحل العاج میں لوگ کثرت سے مسلمان ہو رہے ہیں۔ ایک مقام پر صرف ایک دن میں چار ہزار آدمی مسلمان ہو گئے۔ میں نے پوچھا کہ کن لوگوں کی کوششوں سے ایسا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا: الفضل يرجع الى الله والى الكتب المتر جمة الى الفرنسية۔ 15 مارچ کو دوپہر کا کھانا شیخ ابو عبدالرحمن بن عقیل الظاہری کے یہاں تھا۔ وہ اعلیٰ پایہ کے مصنف اور عالم ہیں۔ مگر ہندوستان اور عرب میں یہ فرق ہے کہ ہندوستان کے علما بول چال کے موقع پر بھی کتابی زبان بولتے ہیں۔ مگر اکثر عرب علما لکھتے وقت تو کتابی زبان لکھتے ہیں مگر بولنے کے وقت ان پر عوامی زبان کا اثر آ جاتا ہے۔ مثلاً ہمارے میزبان نے ایک موقع پر گھر کے ایک لڑکے سے کہا: أَيْنَ تَبْغُونَ (تم کیا چاہتے ہو)۔ اس طرح کی زبان سمجھنا ان لوگوں کے لیے کسی قدر مشکل ہوتا ہے جو صرف کتابی عربی سے واقف ہیں۔ ایک صاحب جو حامی (وکیل) ہیں اور یہاں کھانے میں شریک تھے، انہوں نے ایک گفتگو کے درمیان بڑے درد کے ساتھ کہا: اَلنَّاسُ كُلُّهُمْ يَا أَخِي مُتَعَطِّشُونَ إِلَى الْإِسْلَامِ (میرے بھائی، آج تمام لوگ اسلام کے پیاسے ہیں)۔ 16 مارچ (بروز جمعہ) ڈاکٹر احمد تو تو نجی کو ٹیلی فون کیا گیا اور میری ریاض میں آمد کا ذکر کیا گیا۔ جمعہ کی نماز ہم لوگوں نے مسجد سلیمانیہ میں ادا کی۔ ایک عرب باصرار اپنے ساتھ وہاں لے گئے تھے۔ نماز سے فراغت کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ پر لوٹے تو ڈاکٹر احمد تو تو نجی یہاں موجود تھے۔ مجھ کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے۔ وہ ایک خوبصورت قسم کا بند پیکٹ اپنے ساتھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page