Urdu book · علما اور دینی مدارس

رياض

Urdu book, p. 306

By Maulana Wahiduddin Khan

لائے تھے ۔ شیخ احمد تو تو نجی نے کہا کہ یہ آپ کے لیے ہے ۔ میں نے کھولا تو اس کے اندر دو ایسی کتابیں تھیں جوعین میرا مطلوب تھیں ۔ ایک قرآن کا جیبی نسخہ جو بائبل پیپر پر چھاپا گیا تھا ۔ دوسرا حیات الصحابہ (مولانا محمد یوسف کاندھلوی) کی جلد میں دمشق کی چھپی ہوئی ۔ مجھے قرآن کے مذکورہ نسخہ کی عرصہ سے تلاش تھی ۔ اسی طرح حیات الصحابہ کا دمشق میں چھپا ہوا نسخہ بھی ، جو میں بہت چاہتا تھا ۔ الحمد للہ کہ آج ڈاکٹر تو تو نجی کے ذریعہ دونوں چیزیں مجھے مل گئیں ۔ ڈاکٹر احمد تو تو نجی آج ہی بیرونی (افریقہ) جا رہے تھے ۔ چنانچہ انہوں نے ڈاکٹر طاہر العلوانی کو مقرر کیا کہ ان کی غیر موجودگی میں وہ مجھ سے ملتے رہیں اور میری جو بھی ضرورت ہو اس میں میری معاونت فرمائیں ۔ اصحاب رسول کی زندگیاں اسلام کا زندہ نمونہ ہیں ۔ چنانچہ اصحاب رسول کے بارے میں اسلاف نے کثرت سے کتابیں اور تراجم لکھے ہیں ۔ تاہم اس موضوع پر قدیم کتابوں کا انداز یہ ہوتا ہے کہ ایک ایک صحابی کو عنوان بنا کر اس کے تحت ان کے حالات لکھے جاتے ہیں ۔ مولانا محمد یوسف کاندھلوی نے یہ کیا کہ عملی عنوانات قائم کر کے اس کے تحت صحابہ کے احوال درج کیے ۔ یہ ایک بے حد مشکل کام تھا جو سالہا سال کی محنت کے بعد تمام ہوا۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن حیدر آباد سے چھاپا گیا تھا ۔ تاہم اس میں کثرت سے طباعت کی غلطیاں تھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے دو عرب علما ، شیخ نائف العباس اور شیخ محمد علی دولہ کو یہ توفیق دی کہ وہ پوری کتاب کو دوبارہ تصحیح اور تعلیق کے ساتھ شائع کریں ۔ وہ دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے جگہ جگہ جزئی اضافے بھی کیے ہیں ( وَنُضِيفُ الكَلَامَ اللَّذِي نَسِيَهُ المُؤَلِّفُ أَثْنَاءَ النَّقْلِ ) ۔ ریاض میں ڈاکٹر عبد الرشید صاحب سے ملاقات بھی قابلِ ذکر ہے ۔ انہوں نے ایک بڑی عجیب بات کہی ۔ وہ قرآن کے مطالعہ کا بے حد ذوق رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قرآن اللہ اور بندہ کے درمیان مقامِ اتصال (point of contact) ہے ۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ بحیثیت ڈاکٹر جب میں انسان کے جسم کو دیکھتا ہوں تو میں خدا کے کمالات میں ڈوب جاتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page