Urdu book · علما اور دینی مدارس

اختلاف ایک علمی روش

Urdu book, p. 312

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک سفر اپریل 1969 میں میں نے پہلی بار الور (راجستھان) کا سفر کیا تھا۔ اس کے بعد وہاں کے کئی سفر ہوئے۔ اس کا تفصیلی تذکرہ ”میوات کا سفر“ نامی کتاب میں موجود ہے۔ الور کا موجودہ سفر 20 مئی 1989 کو ہوا، اور 25 مئی کو دوبارہ دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) میں الور کے تذکرہ کے تحت درج ہے کہ یہاں، دوسری تاریخی عمارتوں کے علاوہ کئی قدیم مسجدیں بھی پائی جاتی ہیں: It contains..... several ancient mosques (Vol. 1, p. 285) مگر یہ بیان صحیح نہیں۔ یہ واقعہ ہے کہ 1947 تک الور میں ایک سو سے زیادہ تعداد میں پُر رونق مسجدیں موجود تھیں۔ مگر یہ سب مسجدیں آزادی کے بعد ہونے والے فسادات کی نذر ہو گئیں۔ اب یہاں صرف دو باقاعدہ مسجدیں ہیں جو آزادی کے بعد کے دور میں از سرِ نو تعمیر کی گئی ہیں۔ ایک، مدرسہ اشرف العلوم کی مسجد، دوسرے، میو بورڈنگ کی مسجد۔ ان کے علاوہ ایک قدیم چھوٹی سی مسجد ہے جہاں ایک ”شرنارتھی“ خاندان آباد ہے۔ مولانا محمد ابراہیم صاحب اور مولانا مفتی جمال الدین صاحب 1949 میں دوبارہ الور میں آئے۔ موجودہ جگہ اس وقت چٹیل میدان کی صورت میں تھی۔ صرف کچھ ٹوٹے ہوئے پتھر اس بات کی علامت تھے کہ یہاں کبھی کوئی عمارت یا کوئی مسجد کھڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک چھپر ڈال کر یہاں تعمیرِ نو کا آغاز کیا۔ میں پہلی بار اپریل 1969 میں الور آیا تھا۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ مولانا ابراہیم صاحب ایک نیم کے درخت کے نیچے ایک ٹوٹی ہوئی کرسی پر بیٹھے ہیں اور دور پیچھے ہوئے مستقبل کو تصوراتی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 30 برس بعد آج یہاں دوبارہ ایک پورا ادارہ کھڑا ہو گیا ہے۔ مسجد اور مدرسہ کی شکل میں اسلامی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page