Urdu book · علما اور دینی مدارس

اختلاف ایک علمی روش

Urdu book, p. 313

By Maulana Wahiduddin Khan

علاقے میں چونکہ یہ واحد اسلامی ادارہ ہے، اس لیے اطراف کے مسلمان اس سے جڑ گئے ہیں: ہر بربادی کو دوبارہ آبادی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بربادی آخری بربادی نہیں۔ 21 مئی کی شام کو مدرسہ میں کچھ مقامی تعلیم یافتہ اصحاب جمع ہوگئے۔ مسلمانوں کی تعلیم کے موضوع پر گفتگو ہونے لگی۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمان تعلیم میں پیچھے ہو گئے ہیں۔ ہمارے رہنما اس کی ذمہ داری انگریزوں کی سازش اور ہندوؤں کے تعصب پر ڈالتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک اس کی تمام تر ذمہ داری خود مسلم رہنماؤں کے اوپر ہے۔ موجودہ زمانہ میں ملک کے اندر بے شمار اسکول اور کالج کھلے۔ انھیں عیسائیوں اور ہندوؤں نے قائم کیا تھا۔ مگر مسلمان تحفظ کے ذہن کے تحت اس سے دور رہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری قوموں کی طرف سے ہمارے اوپر تہذیبی حملہ ہو رہا ہے، ہمیں اس سے بچاؤ کی فکر کرنا چاہیے ۔ بہت سے لوگوں نے ان اسکولوں اور کالجوں کو مسلمانوں کے لیے ”قتل گاہ“ بتایا۔ اکبر الہ آبادی نے ان پر طنز کرتے ہوئے کہا : یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی یہ فکر میرے نزدیک سراسر لغو تھا۔ بعد کے تجربات بتاتے ہیں کہ انھیں اسکولوں اور کالجوں سے بے شمار لوگ ہماری دینی جماعتوں کو ملے۔ اگر یہ ادارے واقعۂ قتل گاہ ہوتے تو یہ تمام لوگ ذہنی اور نفسیاتی اعتبار سے قتل ہو چکے ہوتے، پھر وہ ہماری دینی جماعتوں کو کیسے ملتے۔ میں نے کہا کہ اصل مسئلہ تحفظ اور بچاؤ کا نہ تھا بلکہ جوابی فکری اقدام کا تھا۔ ضرورت یہ تھی کہ اسلام کی تعلیمات کو جوابی نظریہ کی حیثیت سے پیش کیا جائے اور مسلمانوں کی نئی نسلوں میں اسلام پر اتنا یقین اور حوصلہ پیدا کر دیا جائے کہ وہ جدید تہذیبی حملوں کے مقابلہ میں پُر عزم طور پر ٹھہر سکے۔ میں نے کہا کہ ہمیں ملک کے تعلیمی نظام سے کٹنا نہیں تھا، بلکہ اپنی نسلوں کو ان اداروں میں پڑھاتے ہوئے ان کی ذہنی تعمیر کا کام کرنا تھا۔ اس طرح کے کام کی ایک مثال تبلیغی جماعت ہے۔ تبلیغی جماعت کا کام اگرچہ خالص روایتی انداز میں چل رہا ہے، مگر اپنی حقیقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page