مطالعہ کے بغیر انسانی شخصیت
Urdu book, p. 319
By Maulana Wahiduddin Khan
س : آپ کے مطالعہ کی رفتار کیا ہے؟ ج : میرا مطالعہ اور تحریر دونوں ساتھ ساتھ جاری رہتے ہیں۔ اس لیے مطالعہ کی مقداری رفتار متعین کرنا مشکل ہے۔ میں رات دن بس پڑھتا ہی رہتا ہوں ۔ اور دورانِ مطالعہ جب کوئی مضمون ذہن میں آتا ہے تو اس کو لکھ لیتا ہوں۔ س : کن زبانوں کی کتابیں آپ کے مطالعہ میں رہتی ہیں؟ ج : عام طور پر میں عربی، انگریزی اور اردو کتابیں پڑھتا ہوں۔ کبھی کبھی فارسی اور ہندی کتاب یا مضمون بھی پڑھتا ہوں۔ س : آپ کے مطالعہ کا وقت کیا ہوتا ہے؟ ج : میرے مطالعہ کا مقرر وقت نہیں۔ اپنے تمام وقت کو میں مطالعہ ہی میں صرف کرتا ہوں۔ مطالعہ میری ذہنی خوراک ہے۔ س : مطالعہ کے ابتدائی دور میں آپ کو کس قسم کی ذہنی وفکری کیفیت سے سابقہ پیش آیا ہے؟ ج : مطالعہ ابتداءً میرے لیے ذہنی تفریح کے ہم معنی تھا۔ اس کے بعد وہ تلاشِ حق کا ہم معنی بنا۔ اب مطالعہ میرے لیے خدمتِ اسلام کا وسیلہ ہے۔ س : آپ کے اپنے موضوع یا موضوعات کی اول درجے کی کتابیں آپ کی نظر میں کون سی ہیں؟ ج : کسی موضوع کے تاریخی ماخذ کے طور پر تو مجھے بہت سی کتابیں اول درجے کی نظر آئیں ۔ مثلاً تفسیر میں محمد بن احمد بن ابوبکر القرطبی ( وفات 1273 ء ) کی الجامع لاحکام القرآن ، علم حدیث میں ابن حجر عسقلانی ( وفات 1449 ء ) کی فتح الباری ، سیرت میں سیرۃ ابن کثیر، وغیرہ۔ اسی طرح جدید ذہن کو سمجھنے کے لیے برٹش فلاسفر برٹرینڈ رسل ( Bertrand (Human Knowledge)Russell, 1872-1970) کی کتاب ہیومن ناج مگر اسلام کو سائنٹفک اسلوب اور جدید فکری مستوی پر پیش کرنے کے لیے کوئی بھی کتاب مجھے اول درجہ کی نظر نہیں آئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader