Urdu book · علما اور دینی مدارس

مطالعہ کے بغیر انسانی شخصیت

Urdu book, p. 320

By Maulana Wahiduddin Khan

س : کیا کسی موضوع پر تقابلی مطالعہ کا بھی آپ کو موقع مل سکا ہے؟ ج : تقابلی مطالعہ کے سلسلہ میں خاص طور پر مذاہب کا تقابلی مطالعہ ہے۔ س : تقابلی مطالعہ میں کن باتوں کو پیش نظر رکھنا آپ ضروری سمجھتے ہیں؟ ج : تقابلی مطالعہ کو کامیاب بنانے کی دو لازمی شرطیں ہیں: گہرامطالعہ، اورموضوعیت۔ س : ریسرچ اور تحقیق کے لیے مطالعہ میں کن باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری خیال کرتے ہیں؟ ج : علمی ریسرچ کے لیے ضروری ہے کہ جس موضوع کا مطالعہ پیش نظر ہے، اس کی براہ راست کتابوں کو پڑھا جائے اور جو کچھ پڑھا جائے غیر جانبدارانہ ذہن کے تحت پڑھا جائے۔ س : تصنیف و تالیف کا کام کرنے والوں کو مطالعہ میں کن باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے؟ ج : کسی مصنف کی تصنیف کو اس کے مطالعہ کا نتیجہ ہونا چاہیے، نہ کہ تصنیف ہی مطالعہ کا محرک ہو۔ س : آپ کے مطالعہ کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟ ج : مجھے علم سے دلچسپی ہے۔ میں ہر اس کتاب کو پڑھتا ہوں جو علمی اسلوب میں لکھی گئی ہو۔ س : حاصلِ مطالعہ کو محفوظ رکھنے کے لیے آپ کیا تدابیر اختیار کرتے ہیں؟ ج : حاصل مطالعہ کو محفوظ رکھنے کے لیے میں: قَيِّدُوا الْعِلْمَ بِالْكِتَابَة (علم کو لکھ کر محفوظ کرو) پر عمل کرتا ہوں۔ حافظہ خواہ کتنا ہی اچھا ہو وہ ہرگز کتاب کا بدل نہیں ہے۔ س : کیا آپ دوران مطالعہ کتاب کے اہم جملوں یا پیرا گراف کو نشان زد بھی کرتے ہیں؟ ج : اگر ذاتی کتاب ہو تو مطالعہ کے دوران میں ضروری نشانات کرتا رہتا ہوں۔ مگر لائبریری کی کتابوں پر نشانات لگانا مجھے پسند نہیں۔ س : سفر میں آپ کس طرح کی کتابیں پڑھتے ہیں؟ ج : سفر میں زیادہ تر میں اخبار یا رسالہ جیسی ہلکی پھلکی چیزیں پڑھتا ہوں۔ س : کیا آپ مطالعہ برائے تفریح یا مطالعہ برائے وقت گزاری کو بھی روا رکھتے ہیں اور اگر روا رکھتے ہیں تو کس حد تک؟

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page