مطالعہ کے بغیر انسانی شخصیت
Urdu book, p. 321
By Maulana Wahiduddin Khan
ج : تفریح یا وقت گزاری کے لیے مطالعہ اس شخص کو روا ہے جو سنجیدہ مطالعہ نہ کر سکتا ہو۔ س : آپ کے پسندیدہ موضوعات کیا ہیں؟ ترجیحی ترتیب کے ساتھ۔ ج : میرے پسندیدہ موضوعات یہ ہیں: تمام اسلامی موضوعات، اور تمام مخالف اسلام موضوعات۔ س : ادب میں آپ کس نظریے کے حامی ہیں؟ ج : ادبی مطالعہ سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کو میں صرف ضیاعِ وقت سمجھتا ہوں۔ س : ایک ادیب یا شاعر کی زندگی میں آپ مطالعہ کو کیا اہمیت دیتے ہیں؟ ج : ادیب یا شاعر کو صرف یہ مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ وہ ادب یا شاعری کو چھوڑ دے۔ س : وہ کون سی کتابیں ہیں، جنہیں آپ اپنی پسندیدہ کتابوں میں شمار کرتے ہیں اور اس کی پسندیدگی کے اسباب کیا ہیں؟ ج : تاریخی ماخذ کے طور پر مجھے بہت سی کتابیں پسند ہیں۔ مگر جدید علمی اسلوب میں اسلام کی ترجمانی کرنے کے لیے جو کتابیں لکھی گئی ہیں، ان میں سے کوئی کتاب مجھے پسند نہیں۔ س : آپ کے پسندیدہ مصنفین کون کون سے ہیں؟ وجہ پسندیدگی پر بھی روشنی ڈالیے؟ ج : دورِ جدید کے مسلم مصنفین میں سے کوئی مصنف مجھے پسند نہیں۔ ان میں سے کسی کی کتاب میرے نزدیک (جدید) علمی اسلوب پر نہیں۔ س : آپ کو سب سے زیادہ کس مصنف نے متاثر کیا؟ ج : مجھے سب سے زیادہ میرے شعورِ فطرت نے متاثر کیا۔ میرے نزدیک سب سے بڑی کتاب فطرت کی کتاب ہے۔ س : آپ کے پسندیدہ ادیب و شاعر کون کون سے ہیں؟ انہیں دوسروں کے مقابلے میں آپ کیوں ترجیح دیتے ہیں؟ ج : مجھے کوئی ادیب یا شاعر پسند نہیں۔ ادب اور شاعری کو میں ایک فطری صلاحیت کا غلط استعمال سمجھتا ہوں۔ س : کیا آپ کو اجتماعی مطالعہ کا موقع میسر آتا ہے؟

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader