Urdu book · علما اور دینی مدارس

مطالعہ کے بغیر انسانی شخصیت

Urdu book, p. 322

By Maulana Wahiduddin Khan

ج : اجتماعی مطالعہ کا ذوق میرے اندر نہیں ہے۔ س : آپ کتابیں خرید کر پڑھتے ہیں یا دوسروں کی کتابوں اور لائبریریوں سے استفادہ کرتے ہیں؟ ج : میں حسب مقدور کتابیں خریدتا ہوں، ورنہ دوسروں سے یا لائبریری سے مستعار لے کر پڑھتا ہوں۔ س : کیا آپ کی کوئی ذاتی لائبریری بھی ہے؟ اسے درست رکھنے کے لیے آپ کیا صورت اختیار کرتے ہیں؟ ج : میری ذاتی لائبریری ہے۔ اس کو درست رکھنے کے لیے میں یہ کرتا ہوں کہ ہر کتاب کو اس کی متعین جگہ پر رکھتا ہوں۔ س : مطالعہ کے تعلق سے اپنا کوئی خاص تجربہ؟ ج : مطالعہ کے سلسلہ میں میرا تجربہ یہ ہے کہ آدمی لکھنے سے زیادہ پڑھنے پر دھیان دے۔ ذاتی طور پر میری تحریر میرے مطالعہ کا حاصل (by-product) ہوتی ہے۔ س : مطالعہ کے شائقین کے لیے اگر کوئی تجاویز یا مشورہ ہو تو پیش فرمائیں؟ ج : تمام بہترین کتابیں سنجیدہ اسلوب میں ہوتی ہیں۔ اس لیے مطالعہ کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی سنجیدہ مطالعہ کا ذوق اپنے اندر پیدا کرے۔ سطحی چیزوں کا مطالعہ آدمی کے اندر سطحی مزاج پیدا کرتا ہے، اور گہری چیزوں کا مطالعہ اس کے اندر گہرے فکر کی پرورش کرتا ہے۔ مطالعہ کا مقصد صرف واقفیت میں اضافہ نہیں، بلکہ بصیرت میں اضافہ ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے : یک من علم رادہ من عقل می باید (ایک حصہ علم کے لیے دس حصہ عقل کی ضرورت ہوتی ہے)۔ بصیرت کے بغیر علم سے حقیقی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ (بجوالہ: میرا مطالعہ، مرتب تابش مہدی، نئی دہلی، 1995، صفحات 212-209)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page