Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک انٹرویو

Urdu book, p. 323

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک انٹرویو زیر نظر انٹرویو مسٹر یوگندر سکند (پیدائش 1967) نے 10 اگست 2007 کو لیا تھا۔ اس کی ریکارڈنگ بھی ہوئی تھی، جو سی پی ایس سینٹر میں موجود ہے۔ س : آپ مدارس کے نظام کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ اس وقت مدارس کے نصاب و نظام میں اصلاح کی ضرورت کی بات ہو رہی ہے؟ ج : بعض دوسرے لوگوں کی طرح میں مدارس کا مخالف یا اس کا ناقد نہیں ہوں۔ مسلمانوں کو مذہبی اور سیکولر دونوں نظام ہائے تعلیم کی ضرورت ہے۔ مسلم بچوں کو دونوں طرح کے مضامین کی واقفیت ہونی چاہیے۔ لیکن تمام مسلم طلبہ کے لیے یہ مطلقاً ضروری نہیں کہ وہ کل وقتی طور پر مدرسہ جا کر عالم بننے کی تربیت حاصل کریں۔ البتہ اتنا ضروری ہے کہ سماج کا ایک طبقہ علم دین حاصل کرے تا کہ مذہبی تعلیم کے حصول کی روایت باقی رہے۔ ہمیں مدارس کے تربیت یافتہ ایسے علما کی ضرورت ہے جو قرآن، حدیث، فقہ اور عربی زبان کے واقف کار ہوں۔ جہاں تک مدارس میں اصلاح کی ضرورت کا سوال ہے حقیقت یہ ہے کہ میں مدارس کی جدید کاری میں یقین نہیں رکھتا۔ آپ قرآن و حدیث کی جدید کاری نہیں کر سکتے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس سیاق میں جدید کاری یا جدت پسندی کی بات بالکل بے محل اور غیر ضروری ہے۔ جدید کاری کے تعلق سے میں کہنا چاہوں گا کہ ہمارے جدید اسکول اور یونیورسٹیوں میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس نکتے کو وہ لوگ جو مدارس میں اصلاح کے زبردست طور پر حامی ہیں، فراموش کر دیتے ہیں۔ میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تعلیم کا کوئی بھی نصاب ہر طرح سے مکمل نہیں کہا جا سکتا۔ نصاب سے زیادہ اہمیت اس کو پڑھانے والے کی ہے۔ اس لیے کہ کتابیں نہیں پڑھاتیں، اساتذہ پڑھاتے ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مدارس میں فلسفے اور منطق کی صدیوں پرانی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page