ایک انٹرویو
Urdu book, p. 324
By Maulana Wahiduddin Khan
یونانی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یونیورسٹیڑ کے انگریزی شعبے میں بھی صدیوں سال پہلے کی لکھی ہوئی کلاسیکل کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ میری نظر میں نصاب کا مسئلہ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اصل مسئلہ باصلاحیت اور ذمہ دار اساتذہ کا ہے۔ ہمیں اصلاً ان کی ضرورت ہے۔ س: تو کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مدارس کے طلبہ کو جدید مضامین سے روشناس کرانے کی ضرورت نہیں ہے؟ ج : میری تجویز یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے علیحدہ ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے جانے چاہئیں جہاں مدارس کے طلبہ فراغت کے بعد جدید مضامین کی تعلیم حاصل کرسکیں۔ خاص طور پر مختلف زبانیں جیسے انگریزی ، ہندی ، وغیرہ۔ خود میں نے ایک روایتی مدرسے میں تعلیم مکمل کی اور پھر اپنے طور پر انگریزی سیکھی اور دوسرے جدید مضامین پڑھے۔ میرا خیال ہے کہ مدارس کے نصاب کے ساتھ ساتھ اگر مدارس کے طلبہ کو جدید مضامین پڑھنے پر مجبور کیا جائے تو بلاشبہ یہ ان پر بوجھ بن جائے گا جسے وہ نہیں اٹھا پائیں گے۔ اس سے مدرسے کا تعلیمی نظام بکھر جائے گا۔ س: حالیہ دنوں میں مدارس کے فارغ طلبہ کے لیے اس طرح کے ادارے جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے، قائم کیے گئے ہیں، آپ اس ظاہر رے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟ ج : میری نظر میں یہ نہایت خوش آئند قدم ہے۔ اگرچہ اسے مزید منظم انداز میں کیا جانا چاہیے۔ اس طرح کے اداروں میں بہرحال ایسے اساتذہ کی کمی ہے جو پوری اسپرٹ کے ساتھ تدریسی ذمہ داری نبھانے پر کمر بستہ ہوں۔ ہمارے دور میں مدرسۃ الاصلاح میں ایسے اساتذہ تھے۔ انہوں نے ہمارے اندر تلاش و جستجس کی روح پیدا کی۔ تلاش و جستجس کی یہی روح اصل میں علم و معرفت کی بنیاد ہے، اس کے بغیر کوئی شخص تعلیم کی راہ پر ترقی نہیں کر سکتا۔ اس روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت ہمارے پاس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader