ایک انٹرویو
Urdu book, p. 325
By Maulana Wahiduddin Khan
مدارس کے اساتذہ کی ٹریننگ کے لیے کوئی ادارہ نہیں ہے۔ ضرورت ہے کہ اساتذہ مدارس کو تعلیم و تربیت اور اس سے متعلقہ امور کی ٹریننگ دی جائے۔ میرے خیال میں یہ ایک اہم ایشو ہے جس پر مسلم تنظیموں کو توجہ دینی چاہیے۔ س: مدرسہ کے فارغ علما اور یونیورسٹی کے تربیت یافتہ دانش وروں کے درمیان جو شدید دوئی اور شنویت پیدا ہوگئی ہے، آپ کی رائے میں اسے کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے؟ ج: میرے بچپن میں یہ دوئی اتنی واضح نہیں تھی۔ اس وقت سیکولر تعلیم گاہیں اخلاقی اقدار سے اس قدر دور نہیں تھیں۔ لیکن اب صورتحال بہت زیادہ افسوسناک ہے۔ دونوں طبقوں کے درمیان اس دوئی اور کھائی کو دور کرنے اور پاٹنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں نظام تعلیم کے طلبہ واساتذہ کے درمیان خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، زیادہ سے زیادہ اختلاط اور میل جول ہو۔ ماضی میں ایسا ہوتا تھا۔ بہت سے ہندو مدرسوں میں پڑھتے تھے، لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔ چونکہ اب ان دونوں طبقوں کے درمیان اس نوع کا میل ملاپ اور باہمی قربت باقی نہیں رہی، اس لیے ان دونوں کے اندر مفاہمت کی کمی پائی جاتی ہے۔ س: بعض علما آپ کی اس رائے پر چیں بہ جبیں ہوں گے اور کہیں گے کہ اس طرح کے میل جول سے مدرسہ کے طلبہ کی مذہبی نفسیات پر برا اثر مرتب ہوگا۔ اس تعلق سے آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ ج: مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ہر کسی سے سیکھتے تھے اور ان کا یہ سیکھنا مختلف قسم کے لوگوں سے میل جول کے ذریعہ ہوتا تھا۔ دوسروں کے ساتھ میل جول کے ذریعہ آپ اپنی اخلاقیات کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ نیز اس کے ذریعہ آپ دوسرے لوگوں کی صحیح شناخت اور ان کا احترام بھی کرسکتے ہیں۔ مدارس اور ان کے طلبہ کو دوسروں کے ساتھ میل ملاپ پر مائل کرنے اور ان کو مدرسہ کی چہار دیواری سے باہر نکالنے کا سب سے اہم طریقہ یہ ہے ان کے اندر مشنری اسپرٹ بھر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader