ایک انٹرویو
Urdu book, p. 326
By Maulana Wahiduddin Khan
دی جائے۔ اس مقصد کے لیے مدارس کی طرف سے کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کیے جائیں جن میں مدارس اور یونیورسٹی کے لوگوں کو، جن میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں شامل ہوں، بلایا جائے۔ یہ طریقہ دونوں طرف معلومات کے دروازے کو کھولنے اور باہمی غلط فہمیوں کو دور کرنے کا زبردست ذریعہ ہوگا۔ خود میری مثال لیجیے! میں روزانہ مختلف مذاہب اور سماجی پس منظر کے لوگوں سے ملتا ہوں۔ میں اسے اللہ کی نعمت سمجھتا ہوں۔ کیونکہ اس عمل کے ذریعہ میں مختلف طرح کی معلومات، دوسروں کے تعلق سے انسانی جذبہ یگانگت، نئے تجربات اور اخلاقی اقدار سیکھتا اور حاصل کرتا ہوں۔ س : آپ کے خیال میں اہل مدارس اور علما بین مذاہبی مکالمے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ ج : میرے خیال میں وہ اس تعلق سے نہایت مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے وہ اس میں مشغول نہیں ہیں۔ مدارس کو غیر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ میل جول کے فائدے کا احساس نہیں ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس سے طلبہ پر منفی اثر پڑنے کے بجائے ان پر مثبت اثر پڑے گا اور اس سے ان کی مذہبیت کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔ اس سلسلے میں میں مولانا اشرف علی تھانوی کے ایک شاگرد کا واقعہ سنانا چاہوں گا۔ انہوں نے مولانا سے اپنے لڑکے کی مذہب سے بیگانگی کی شکایت کی۔ مولانا تھانوی نے ان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اس لڑکے کو عیسائی اسکول میں بھیج دیں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اس کے نتیجے میں وہ لڑکا ایک باعمل مسلمان بن گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہاں اس لڑکے کو مذہب کے تعلق سے مستقل چیلنج درپیش تھا۔ اس کے عیسائی ساتھی اس سے اسلام سے متعلق سوالات کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ اس کو اسلام کے متعلق پڑھنا پڑا۔ اسی طرح ان لوگوں نے اس سے نماز کے بارے میں سوال کیا تو اس کے دل میں نماز پڑھنے کا داعیہ پیدا ہوا اور وہ اس کا پابند ہوگیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader