Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک انٹرویو

Urdu book, p. 327

By Maulana Wahiduddin Khan

اس حوالے سے میں خود اپنی ایک مثال پیش کرنا چاہوں گا۔ تقریباً نصف صدی قبل جب میں لکھنؤ میں تھا، تو میری ایک ہندو اسکالر سے ملاقات ہوئی، جو ملحد تھا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ اگر حضرت محمد کو تاریخ سے ہٹا دیا جائے تو اس سے دنیا کی تاریخ میں کوئی فرق واقع نہیں ہوگا۔ میں اس کے اس بیان سے بالکل نہیں بھڑکا۔ اس کے بجائے میں نے اس جملے کو ایک چیلنج کے طور پر لیا۔ اس کے بعد میرے ذہن میں ایک خاص طرح کا فکری عمل شروع ہو گیا۔ مسلمان رسول اللہ کو آخری پیغمبر اور پوری انسانیت کے لیے ایک نمونہ تصور کرتے ہیں۔ مذکورہ شخص کے اس جملے نے مجھے مجبور کیا کہ میں رسول اللہ کے تاریخی رول کا مختلف کتابوں کے حوالے سے مطالعہ کروں۔ اس مطالعہ کا نتیجہ میری کتاب "اسلام دورِ جدید کا خالق“ کی شکل میں سامنے آیا۔ حقیقت میں یہ کتاب ایک ملحد شخص کے ساتھ انٹرا یکشن کا ثمرہ ہے۔ اگر میری اس شخص سے ملاقات نہیں ہوتی تو میں متعلقہ موضوع کے مطالعہ پر آمادہ بھی نہ ہوتا۔ بہرحال اس حوالے سے میں جو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ اختلاط سے خطرے کا جو تصور ہے، وہ بالکل بے بنیاد ہے۔ جو لوگ اس خطرے کے احساس سے دوچار ہیں، وہ اس چیلنج کی قدر و قیمت کو نہیں سمجھ رہے ہیں، جو اس اختلاط اور میل جول کی دین ہے۔ یہ میل جول بجائے خود تعلیم ہی کی ایک شکل اور ذریعہ ہے۔ اگر مدارس کے لوگوں کا دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ میل جول ہو تو میرے خیال میں ہندوستان میں اس سے ہندو۔ مسلم تعلقات کے باب میں کافی فائدہ حاصل ہوگا۔ س : کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کے ساتھ میل جول کو فروغ دینا علما کی ذمہ داری ہے؟ لیکن اگر علما میل جول میں دلچسپی نہ لیتے ہوں تو؟ ج : میں مدرسوں کو اس کا الزام نہیں دے رہا ہوں۔ میں تو صرف یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ دوسروں کے درمیان اسلام کا تعارف پیش کرنا یہ باہمی میل جول پر منحصر ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page