Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک انٹرویو

Urdu book, p. 328

By Maulana Wahiduddin Khan

پر ہزاروں لوگوں کے اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں اللہ کا ایک پیغام لے کر مبعوث ہوا ہوں۔ تم لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ تم لوگ میرے بعد اسے پوری انسانیت تک عام کر دو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 67)۔ چنانچہ اس کے بعد آپ کے اصحاب کی بڑی تعداد تبلیغ وارشاد کے لیے مکہ ومدینہ کو چھوڑ کر اس سے متصل علاقوں میں چلی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ مدینہ اور مکہ میں اصحاب رسول کی بہت کم قبریں ہیں۔ س : علما کی طرف سے دوسروں کے ساتھ تعامل میں سب سے بڑی رکاوٹ زبان کا مسئلہ ہے۔ علما کی اکثریت اردو کے علاوہ دوسری زبان سے واقف نہیں ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ اس سلسلے کی ایک بڑی مشکل ہے؟ ج : جہاں چاہ وہاں راہ۔ میں نے انگلش اور ہندی خود سے سیکھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر مدارس کے فارغین صحیح عزم سے کام لیں تو وہ بالکل سیکھ سکتے ہیں۔ جب ایک شخص دوسروں سے میل قائم کرتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ اس کی زبان بھی سیکھتا جاتا ہے اور ان کی تہذیب وروایت سے بھی اس کی آشنائی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ س : مدارس کے بہت سے طلبہ واساتذہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے بارے میں غلط تصورات رکھتے ہیں۔ اس معاملے سے کس طرح نمٹنا چاہیے؟ ج : اس طرح کی ذہنیت دونوں طرف پائی جاتی ہے۔ میرے خیال میں اس کی بڑی وجہ باہمی تعامل (interaction) کی کمی ہے۔ مثبت تعامل منفی ذہنیت کو ختم کر دیتی ہے۔ اگر کسی ہندو کا کسی مسلمان سے تعلق یا دوستی نہیں ہے، اس نے صرف مسلمانوں کے بارے میں میڈیا کے حوالے سے پڑھا اور جانا ہے، تو مسلمانوں کے بارے میں اس کا تصور نہایت غلط ہوگا۔ دوسری صورت میں اگر ایک ہندومخلوط ہند ومسلم آبادی یا مسلم محلے میں رہتا ہے تو اس کے زیادہ امکانات ہیں کہ مسلمانوں سے متعلق اس کا تصور زیادہ مثبت ہوگا۔ مثبت تعامل غلط فہمیوں کے ازالے کا سب سے بہتر ذریعہ ہے اور اس کے لیے کسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page