Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک انٹرویو

Urdu book, p. 329

By Maulana Wahiduddin Khan

مصنوعی پروگرام یا اسکیم کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں تعمیری تعامل کے مثبت نتیجہ کی ایک مثال دیتا ہوں ۔ ایک گاؤں کے مقامی باشندے وہاں واقع مدرسہ اور اس کے مولوی حضرات کے بارے میں جو وہاں پڑھاتے تھے، نہایت غلط اور مفروضات پر مبنی تصورات رکھتے تھے۔ ایک دن بعض ہندوؤں کے گھر میں آگ لگ گئی۔ اس کو بجھانے کے لیے مدرسہ کے لڑکے دوڑ پڑے ۔ اس کے بعد مدرسہ کے تعلق سے وہاں کے ہندوؤں کا رویہ بدل گیا۔ مدرسہ اور مدرسہ والوں سے وہ جس قدر نفرت رکھتے تھے اب وہ ان سے اتنی ہی محبت کرنے لگے ۔ یہ ہے باہمی تعلق اور میل جول کا معجزہ ۔ س : کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مدارس میں دوسرے مذاہب سے متعلق بھی پڑھایا جانا چاہیے؟ ج : جی ہاں ! بالکل ، اس سے ان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ زیادہ بہتر تعلقات قائم کر سکیں۔ اس سے ان کی دعوت واصلاح کی مہم کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔ دوسرے مذاہب کے بارے میں پڑھانے کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ان مذاہب کے بارے میں ان کے اندر معروضی شعور پیدا ہو جائے ۔ دوسرے مذاہب کی مذمت کا رویہ ترک کیا جانا چاہیے ۔ آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے پڑوسی کو سمجھنے کی کوشش کریں، خواہ آپ سے متعلق ہوں یا نہ ہوں ۔ جدال غیر احسن اسلامی اخلاق کے مطابق نہیں ہے۔ اس لیے مثال کے طور پر جب میں کسی مندر، گردوارہ یا چرچ وغیرہ میں جاتا ہوں تو میں بالکل خالی ذہن کے ساتھ ان سے انٹرایکشن کرتا ہوں ۔ اس طرح ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ میرا ارادہ دوسروں کو سمجھنے، دوسرے کے متعلق معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے، ان کی مذمت کرنا نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کا پیغام دوسروں تک پہنچانا ہمدردی کی بات ہے، دشمنی کی نہیں۔ یہ فخر کرنے کی بات نہیں ہے کہ ایک مذہب کا ماننے والا دوسرے سے افضل ہے۔ قرآن ہم سے چاہتا ہے کہ ہم دوسروں کے ہمدرد بنیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page