Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک انٹرویو

Urdu book, p. 330

By Maulana Wahiduddin Khan

س: دوسروں کے ساتھ تعامل میں علما کے لیے ایک بڑی رکاوٹ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مسلم مخالف فضا کی وجہ سے انہیں یہ لگتا ہو کہ انہیں مسترد کر دیا جائے گا۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟ ج : اس تعلق سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ تعارفِ اسلام کی راہ میں ہر طرح کی مشقت کو برداشت کرنے اور اپنی ذات کو پس پشت ڈالنے کی ضرورت ہے۔ میں خود اپنی مثال دیتا ہوں ۔ جب میں ایک عرصہ قبل دہلی منتقل ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ ہندوؤں کا ایک گروپ ہفتے میں ایک مرتبہ ایک جگہ ملا کرتا ہے۔ مجھے شدید خواہش ہوئی کہ میں ان کی میٹنگ میں شریک ہوں۔ چنانچہ میں شریک ہونے لگا۔ ایک دن ایک شخص نے ایک مسئلے کے بارے میں مجھ سے پوچھا جو اس کے گمان کے مطابق قرآن سے تعلق رکھتا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ بات قرآن میں موجود نہیں ہے۔ اس نے اس پر اصرار کیا۔ اس نے کہا کہ وہ اردو جانتا ہے اور اس نے قرآن کا ترجمہ پڑھا ہے۔ اس نے کہا کہ میں اس سے واقف نہیں۔ میرے لیے یہ بات توہین کے مترادف تھی، نیز قرآن کے تعلق سے اس کے تحقیری رویے سے مجھے شدید دکھ پہنچا۔ لیکن میں نے یہ سب برداشت کیا۔ میں نے اس کے ساتھ کوئی سختی کا رویہ نہیں اپنایا۔ چنانچہ اس کے نتیجہ میں وہ آگے چل کر میرا دوست بن گیا۔ اسلام سے متعلق گفتگو اور دعوت کے عمل میں اس قسم کے صبر و اعراض کی ضرورت ہے۔ س: مدارس پر لگائے جانے والے دہشت گردی کے الزام سے متعلق آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ ج : یہ بالکل بے بنیاد الزام ہے۔ کوئی بھی مدرسہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہے۔ پاکستان کے بعض مدارس کے تعلق سے یہ بات ضرور کہی جا سکتی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ بھی کوئی مدرسے کا ظاہر ہ (phenomenon) نہیں، بلکہ پاکستانی ظاہر ہ ہے۔ پاکستان کے پارلیمانی سکریٹری برائے دفاع نے ابھی چند دنوں قبل پاکستانی پارلیمنٹ میں ہندوستان کے خلاف جہاد کی بات کہی ہے۔ یہ بالکل پاگل پن کی بات ہے۔ یہ شخص مدرسہ کا فاضل نہیں ہے، یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ ہے۔ اس لیے میں نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page