Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک انٹرویو

Urdu book, p. 331

By Maulana Wahiduddin Khan

کہا کہ پاکستان کے بعض مدارس کا دہشت گردی میں ملوث ہونا ایک پاکستانی معاملہ ہے۔ یہ پاکستان میں سیاسی مفادات کی خاطر اسلام کو تو ٹر مروڑ کر پیش کرنے کا نتیجہ ہے۔ یہ نہایت غلط بات ہے کہ میڈیا کا ایک حلقہ ہندوستانی اور پاکستانی مدرسوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے۔ اور یہ کہ ہندوستانی مدرسوں کو بھی پاکستانی مدرسوں کی طرح دہشت گردی میں ملوث سمجھتا ہے۔ س : کیا آپ پاکستان میں اسلام کی اپنی من مانی تشریح کے مذکورہ بالا نکتے پر مزید روشنی ڈالنا چاہیں گے؟ ج : اصل میں پاکستان کی تحریک ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کی تشکیل کے مطالبے اور جدوجہد پر مبنی تھی۔ اس کے لیے اسلام کو ایک آلے اور ذریعے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ آپ اس کا تو مطالبہ کر سکتے ہیں کہ آپ کو الگ سے اپنا ملک چاہیے، لیکن اس کے لیے آپ کو اسلام کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ طریقہ صحیح نہیں ہے۔ پاکستان کی تحریک کے علمبردار کہتے تھے کہ اسلام اور پاکستان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے، اس لیے انہیں اسلام کو مضبوط کرنے اور فروغ دینے کے لیے ایک علاوہ ملک کی ضرورت ہے۔ یہ بالکل غلط بات تھی۔ اسلام یا کوئی اور مذہب ایک خطۂ ارضی کو حاصل کر کے مستحکم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ وہ صرف اس طرح مضبوط و مستحکم کیا جا سکتا ہے کہ افراد کے دلوں اور دماغوں میں اس کی جڑیں مضبوط کی جائیں۔ اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دل کی جانب اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ تقویٰ اور نیکی کا مقام یہ ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2564)۔ استحصال تمام برائیوں کی جڑ ہے اور چونکہ پاکستان کے لیڈروں نے پاکستان کے آغاز سے ہی اسلام کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا، اس لیے یہ بات بالکل فطری تھی کہ ملک اسلام کے نام پر قائم ہونے کے باوجود کشمکش اور مار دھاڑ کا گہوارہ بن جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page