ایک انٹرویو
Urdu book, p. 332
By Maulana Wahiduddin Khan
س : ایسا کیوں ہے کہ مدارس میں زیادہ تر انتہائی غریب خاندانوں کے بچے ہی تعلیم کے لیے آتے ہیں؟ ج : اس کی وجہ تعلیمی نظام میں پائی جانے والی ثنویت ہے۔ جس کا میں نے اوپر حوالہ دیا۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ اکثر والدین اپنے بچوں کو ماڈرن اسکولوں میں بھیجنا چاہتے ہیں، کیوں کہ مدارس کے فضلا کی تنخواہوں کا معیار نہایت کم ہے۔ مدارس کے اساتذہ کی تنخواہوں کا معیار زیادہ سے بہتر سے بہتر بنایا جانا چاہیے۔ اگر ایسا ہو تو یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ذہین اور خوشحال خاندانوں کے طلبہ بھی مدارس کا رخ کریں گے۔ ماضی میں مدرسوں سے نہایت ذہین و فہیم اسکالرس اور قائدین نکلے جنہوں نے ہندوستان کی سیاسی زندگی میں نہایت اہم رول ادا کیا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہورہا ہے اور بعض دوسرے اعتبارات سے یہ ان مدارس کے تبدیل شدہ طبقاتی کردار کا بھی نتیجہ ہے۔ س : آپ میڈیا کے بڑے حلقے میں مدارس کی شبیہ کے بگڑنے جانے کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟ ج : میڈیا زیادہ سے زیادہ آمدنی پیدا کرنے میں یقین رکھتا ہے۔ وہ مارکیٹ بنانے کے لیے ناظرین کے سامنے ہاٹ نیوز پیش کرنے کی فکر میں یقین رکھتا ہے۔ میڈیا کو سافٹ نیوز میں دلچسپی نہیں ہوتی اس لیے کہ اس سے آمدنی نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ سنسنی خیز اور سلیکٹیو رپورٹنگ کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ ایک دن میں ایک ریڈیو اسٹیشن کی ہندی سروس سن رہا تھا۔ ماریشش کے ایک سامع نے ٹیلی فون پر پوچھا کہ "ماریشش" کو کوریج کیوں نہیں دیا جاتا، جب کہ یہاں ہندی بولنے اور سمجھنے والے لوگ کافی تعداد میں ہیں۔ پروگرام پیش کرنے والے نے جواب دیا کہ میڈیا صرف گرم خبروں کا شائق ہے، جبکہ ماریشش سے گرم خبریں نہیں ملتیں۔ اس نے پھر مزید کہا کہ کچھ گرم خبریں پیدا کیجیے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader