علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 333
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر ہم آپ کے ملک کے بارے میں خبریں نشر کریں گے۔ اگر آپ میڈیا کی روش میں تبدیلی چاہتے ہیں تو آپ کو لوگوں کی ذہنیت کو بدلنا ہوگا۔ س: مرکزی مدرسہ بورڈ کی حکومتی تجویز پر آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ ج : نظریاتی سطح پر تو یہ صحیح لگتا ہے۔ خاص طور پر اس سیاق میں کہ اس سے مدارس کے نظام کو منظم کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم اصل مشکل حکومت اور مدارس کے درمیان صحت مند تعلقات کی ہے۔ اس بنا پر اس طرح کے بورڈ کا فائدہ بہت زیادہ نہیں ہوگا۔ بہت سے علما حکومت کے ارادے کو مشکوک سمجھتے ہیں۔ بہر حال اگر یہ بورڈ وجود میں آجاتا ہے تو اس کی پالیسیاں اور سرگرمیاں علما کے مشوروں سے طے کی جانی چاہئیں۔ فقہا کون ہیں ایک حدیث ہے تُمَاوِرُونَ الْفُقَهَاءَ وَالْعَابِدِينَ، وَلَا تُمْضُوا فِيهِ رَأْيَ خَاصَّةٍ (المجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 1618)۔ یعنی دینی معاملات میں تم لوگ ایسے لوگوں سے مشورہ کرو جو فقیہ ہوں اور اللہ کے حکموں پر عمل کرنے والے بھی ہوں۔ محض اپنی ذاتی رائے پر نہ چلو۔ اس حدیث میں ”فقہا“ کا لفظ موجودہ روایتی معنی میں نہیں ہے۔ وہ سادہ طور پر عالم کے معنی میں ہے، یعنی وہ لوگ جو دین کا گہرا علم رکھنے والے ہوں۔ ( ڈائری، 11 جنوری 1996)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader