Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک ملاقات

Urdu book, p. 334

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک ملاقات زیر نظر انٹرویو مولانا وحید الدین خاں صاحب نے ماہنامہ صراط مستقیم انٹرنیشنل، پاکستان کو دیا۔ س: تاریخ پیدائش اور خاندانی پس منظر؟ ج: میری پیدائش سرکاری ریکارڈ کے مطابق، یکم جنوری 1925 کو اعظم گڑھ (اتر پردیش) کے ایک گاؤں بڑھريا میں ہوئی۔ میرے جدِ اعلیٰ کا نام حسن خاں تھا۔ وہ ریاست سوات (Swat) کے رہنے والے تھے۔ سوات چترال میں واقع ہے، جو اُس زمانہ میں افغانستان کا حصہ تھا۔ اب یہ پاکستان کا ایک حصہ ہے۔ حسن خاں کے ایک اور بھائی تھے جن کا نام حسین خاں تھا۔ دونوں بھائیوں کے درمیان کسی بات پر نزاع پیدا ہوگیا۔ چنانچہ حسن خاں اپنے بھائی حسین خاں سے نہ صرف علیحدہ ہو گئے، بلکہ اُنھوں نے سوات سے ہجرت بھی کر ڈالی، اور انڈیا کے ایک صوبہ اتر پردیش کے علاقے جون پور میں پہنچ گئے۔ اس وقت یہاں سلطان خاں کی حکومت تھی۔ پہلے ہمارا خاندان جون پور میں بسا، پھر کچھ لوگ اعظم گڑھ کے علاقے میں جا کر بس گئے۔ یہیں میری پیدائش ہوئی۔ س: تعلیمی مراحل؟ ج: بچپن میں میرا حال یہ تھا کہ اکثر میں گھر سے نکل کر کھیتوں اور باغوں کی طرف چلا جاتا تھا۔ گاؤں کے باہر ندی پر ایک پل تھا۔ میں وہاں جا کر بیٹھ جاتا، اور دیر تک دریا کی روانی اور فطرت کے مناظر کو دیکھتا رہتا تھا۔ فطرت کو دیکھنا میرا پسندیدہ کام تھا۔ کچھ شعور ہوا تو ابتدائی تعلیم گاؤں کے ایک مکتب میں شروع ہوئی ۔ اس کے بعد 1938 میں عربی تعلیم کے لیے میں نے مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر، اعظم گڑھ) میں داخلہ لیا۔ وہاں سے فارغ ہونے کے بعد جب میں نے دیکھا کہ میں سماج میں ارریلیونٹ ہوں، یعنی میری تعلیم اس لائق نہیں جو مجھے موجودہ سماج میں مفید بنا سکے تو میں نے دوبارہ تفاسیر وحدیث

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page