ایک ملاقات
Urdu book, p. 335
By Maulana Wahiduddin Khan
وغیرہ کا مطالعہ کیا، انگریزی زبان سیکھی، پھر سیکولر علوم اور سائنس وغیرہ کا مطالعہ کیا۔ اس طرح میں نے زمانی شعور حاصل کیا، اور پورے یقین کے ساتھ اسلام کو از سر نو دریافت کیا۔ س: فہم قرآن کے بنیادی اصول؟ ج : ڈی کنڈیشنڈ مائنڈ کے ساتھ قرآن میں تدبر کرنا، اور تقویٰ کے ساتھ اللہ سے دعا کرنا۔ س : کھانے اور پہننے میں کیا پسند ہے؟ ج : لائف اسٹائل کے معاملے میں میرا اصول یہ ہے ـــ سادہ زندگی، اونچی سوچ: simple living, high thinking س : ہندوستان میں اسلام کی دعوت اور اس پر عمل کتنا دشوار ہے؟ ج : آج کے دور میں کسی بھی ملک میں دعوت کا کام مشکل نہیں ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ پیس فل انداز میں حکمت کے ساتھ دعوت کا کام کیا جائے۔ س : ایک داعی کو کن اوصاف سے متصف ہونا چاہیے؟ ج : داعی کے دل میں مدعو کے لیے مکمل طور پر خیر خواہی (نصح) کا جذبہ ہونا چاہیے۔ مدعو کی کوئی بھی اشتعال انگیز بات داعی کو خیر خواہی کے جذبے سے دور نہ کرے۔ س : حقوق مسلم کے لیے آپ کی جد و جہد کی چند جھلکیاں؟ ج : میں نے مسلمانوں کو ہمیشہ یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ حقوق طلبی کی مہم ترک کریں، اور لوگوں کے لیے نافع (giver) بن کر زندگی گزاریں۔ حدیث کے الفاظ میں، وہ الید العلیا بنیں، الید السفلیٰ نہیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1427)۔ یعنی وہ دینے والے (giver) بنیں، نہ کہ لینے والے۔ س : غیر مسلم کس کس رکاوٹ کی وجہ سے نعمتِ اسلام سے محروم ہیں؟ ج : دعوت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود مسلمان ہیں۔ مسلم مفکرین کی یہ غلطی ہے کہ انہوں نے سیاسی میدان میں مغلوب ہونے کی وجہ سے جدید فکر یا جدید تہذیب کو اسلام کا مخالف سمجھ لیا۔ اس بنا پر ان کے اور جدید ذہن کے درمیان غیر ضروری ٹکراؤ پیدا ہو گیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader