Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک ملاقات

Urdu book, p. 336

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ چنانچہ موجودہ دور میں دعوت کا کام نارمل انداز میں جاری نہیں ہے۔ میری ان کو نصیحت ہے کہ وہ جدید فکر کے خلاف اپنی منفی مہم بند کردیں۔ اس کے بعد غیر مسلموں کے درمیان دعوت کا کام بالکل فطری انداز میں جاری ہو جائے گا۔ س: فرقہ وارانہ تشدد (مذہبی ، مسلکی ، سیاسی ، لسانی وغیرہ) کے اسباب و وجوہات ؟ ج: اختلاف کو پیچ کرنے کا فقدان ۔ اختلاف (difference) کے معاملے میں ہمیشہ دو طریقے ہوتے ہیں ۔ غلو کا طریقہ اور ٹالرنس کا طریقہ ۔ غلو کا طریقہ یہ ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ مختلف مسالک فکر کے درمیان ایک ہی طریقہ صحیح ہے، دوسرے تمام طریقے غلط ہیں، ان کو ختم ہو جانا چاہیے۔ اس کے برعکس ، دوسرا طریقہ رواداری یا وسعتِ نظری کا طریقہ ہے، یعنی یہ سمجھنا کہ جو اختلاف ہے، وہ تنوع (diversity) کا معاملہ ہے۔ جس کا عملی فارمولا اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے ۔ ایک کی پیروی ، سب کا احترام : follow one, respect all س: فرقہ وارانہ تشدد کی فضا کو ختم کرنے کے لیے کون کیا کردار ادا کرے ؟ ج : نفرت کی فضا کو ختم کرنے کا صرف ایک اصول ہے ، یک طرفہ طور پر صلح کر لینا ۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کیا تھا۔ س : پوری دنیا میں "مسلمان ہی مظلوم" کیوں ہیں ؟ ج: مسلمان مظلوم نہیں ہیں، وہ اپنی غیر حکیمانہ پلاننگ کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ پریکٹیکل وزڈم کی بنیاد پر اپنے عمل کی ری پلاننگ کریں۔ س : دینی مدارس کی اصلاح کے لیے کیا تجاویز دیں گے ؟ ج : حدیث کے الفاظ میں، وہ بصیر زمانہ بنیں (صحیح ابن حبان ، حدیث نمبر 361)۔ بصیر زمانہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ زمانے کے مطابق اہل مدارس اپنے عمل کی درست منصوبہ بندی (right planning) کریں ۔ زمانے سے باخبر ی کے بغیر اسلامی عمل کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page