ایک ملاقات
Urdu book, p. 337
By Maulana Wahiduddin Khan
درست منصوبہ بندی نہیں ہوسکتی ہے۔ اس بناء پر اہل مدارس کو یہ کوشش کرنا ہے کہ وہ اپنے زمانے کے حالات سے پوری طرح باخبر ہوں، ورنہ ان کی سرگرمیاں بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں گی۔ مثلاً ہم ایسے زمانے میں ہیں جو امن کا زمانہ ہے۔ ایسے زمانے میں صرف پر امن منصوبہ بندی نتیجہ خیز ہوسکتی ہے۔ اگر کوئی آج کے زمانے سے بے خبر ہو، اور وہ امن کے زمانے میں جنگ کی تیاری کرے، اور پھر اپنے زمانے کے لوگوں کے خلاف لڑائی چھیڑ دے تو بلاشبہ اس کا منصوبہ غلط ہو جائے گا۔ اپنے جان و مال کو قربان کرنے کے باوجود وہ کوئی مثبت نتیجہ (positive result) حاصل نہ کر سکے گا۔ مدارس کے تعلق سے مزید تفصیل میری کتاب ”علما اور دورِ جدید“ اور ”دین و شریعت‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ س : آپ بصیر زمانہ بننے پر بہت زور دیتے ہیں، کیا آپ سے پہلے کسی عالم نے ایسا کہا ہے؟ ج : قدیم علما کے یہاں اس کی مثالیں ملتی ہے۔ مثلاً وہب بن منبہ (وفات 114ھ) نے کہا ہے کہ آلِ داؤد کی حکمتوں میں ایک یہ ہے: حَقٌّ عَلَى الْعَاقِلِ أَنْ يَكُونَ عَارِفاً بِزَمَانِهِ (الصمت وآداب اللسان لابن أبي الدنيا، اثر نمبر 31)۔ یعنی، عقلمند انسان (wise person) پر لازم ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو۔ اسی طرح ابن الحاجب الکردی المالکی (وفات 646ھ) کا قول ہے: وَمِنْ شِيمَةِ الْعَالِمِ أَنْ يَكُونَ عَارِفاً بِزَمَانِهِ (جامع الأمهات لابن الحاجب، صفحہ 575)۔ یعنی، عالم کی خصوصیات میں سے ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو۔ یہی بات ابن عبدالبر (وفات 463ھ) نے بھی اپنی کتاب الکافی فی فقہ اہل المدینہ (جلد 2، صفحہ 1132) میں لکھی ہے۔ ابن کثیر (وفات 774ھ) نے اپنے استاد برہان الدین الفزاری کا بیان کرتے ہوئے لکھا ہے: عَارِفاً بِزَمَانِهِ (البداية والنهاية، جلد 14، صفحہ 167)۔ یعنی، وہ اپنے زمانے سے باخبر عالم تھے۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب در المختار (صفحہ 95) میں اس تعلق سے ایک با معنی قول ان الفاظ میں آیا ہے: مَنْ لَمْ يَكُنْ عَالِمَا بِأَهْلِ زَمَانِهِ فَهُوَ جَاهِلٌ (جو اپنے زمانے کا علم نہ رکھتا ہو، وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader