Urdu book · علما اور دینی مدارس

ایک ملاقات

Urdu book, p. 338

By Maulana Wahiduddin Khan

جاہل ہے)۔ مشہور حنفی فقیہ ابن عابدین شامی (وفات 1889) نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں لکھا ہے: وَمَنْ لَمْ يَدْرِ بِعُرْفِ أَهْلِ زَمَانِهِ فَهُوَ جَاهِلٌ (الرد المحتار، جلد 3، صفحہ 724)۔ یعنی، جو اپنے زمانے والوں کے ٹریڈیشن سے بے خبر ہو، وہ جاہل ہے۔ تو میں نے جو بات کہی ہے، وہ کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ میں نے جدید اسلوب میں وہی بات دہرائی ہے، جو قدیم علما کہتے رہے ہیں۔ س : 96 سالہ زندگی کے تجربات کی روشنی میں ہم جاننا چاہیں گے کہ ایک فرد کو کن اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے؟ ج : پرابلم کو اگنور کرنا اور مواقع کو دریافت کرکے منصوبہ بند طریقے سے اس کو اوویل کرنا۔ س : کبھی پاکستان کا دورہ کیا . . . اگر نہیں تو کیا خواہش ہے؟ ج : میں نے پاکستان کا تین مرتبہ سفر کیا ہے۔ ان میں ایک سفر تقسیم سے پہلے 1945 میں ہوا تھا۔ اس کے بعد دوسرا سفر 1971 میں ہوا، پھر تیسرا سفر 1985 میں ہوا۔ ان کی تفصیل میری کتاب سفر نامہ غیر ملکی اسفار جلد اول میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً میں پاکستان کے تعلق سے مضامین بھی لکھتا رہا ہوں۔ اس وقت ہمارے مشن سے تعلق رکھنے والی ایک ٹیم بھی پاکستان میں موجود ہے، جو وہاں ہمارے دعوتی مشن کو یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھارہی ہے۔ س : اُمت مسلمہ کو نشاتہ ثانیہ کے سفر میں کس مرحلہ میں دیکھتے ہیں؟ ج : مسلم مفکرین یہ سمجھتے ہیں کہ جدید فکر (modern thought) ان کے خلاف ایک چیلنج ہے۔ مگر بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جس چیز کو جدید فکر کہا جاتا ہے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام مخالف نہیں ہے، وہ عین موافق اسلام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید ذہن اور جدید تہذیب پوری کی پوری اسلام کے موافق ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے دیکھیے تو اسلام اور جدید فکر میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ فکر جدید کو بدلنے کا نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page