ایک ملاقات
Urdu book, p. 339
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، بلکہ مسلمانوں کی سوچ کو بدلنے کا ہے۔ اس کے بعد کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے۔ مسلمانوں کا مزاج ہے ہر نئی چیز کے خلاف ہو جانا۔ مثلاً جب کولونیلم کا دور آیا تو وہ اس کے خلاف ہو گئے۔ اسی مزاج نے اصل مسئلہ پیدا کیا ہے۔ اس ذہنیت کو بدلنا ہے۔ س : امت مسلمہ اپنا کھویا ہوا وقار اور مقام کیسے حاصل کر سکتی ہے؟ ج : ان کو پانچ پوائنٹ فارمولا اختیار کرنا چاہیے ۔ وہ پانچ پوائنٹ فارمولا درج ذیل ہے: (1) معرفت خداوندی (realization of God) (2) ثبت سوچ (positive thinking) (3) دعوت الی اللہ (4) نفرت (hate) کا کلی خاتمہ، منفی سوچ کا کلی خاتمہ، مغرب کو اسلام کا دشمن سمجھنے کے بجائے اس کو اسلام مؤید سمجھنا۔ (5) سیاسی ٹارگٹ کے بجائے آخرت رخی زندگی کو اپنا ٹارگٹ بنانا۔ س : اہل پاکستان کے نام محبت بھرا پیغام؟ ج: وہ قرآن کی اس آیت کو اپنے لیے رہنما آیت کی حیثیت سے اختیار کر لیں : وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ٱدْفَعْ بِالَّتِی هِیَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِی بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (34:41)۔ یعنی بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اس آیت کے مطابق، کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا ابدی دشمن نہیں ہے، پیدائشی طور پر ہر انسان امکانی دوست (potential friend) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں اہل پاکستان کی منصوبہ بندی یہ ہونا چاہیے کہ وہ بالقوة (potential) دوست کو ، قرآن کی رہنمائی کے مطابق، بالفعل (actual) دوست بنانے کا طریقہ اختیار کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader